چین اور امریکا ٹیکنالوجی کی دوڑ میں

420

سمیع اللہ ملک

اکیسویں صدی میں تجارتی تنازعات میں سب سے اہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں سبقت لے جانے کی جنگ ہوگی۔ یہ جنگ مصنوعی ذہانت سے لے کرنیٹ ورکنگ کے آلات تک تمام شعبوں کواپنی لپیٹ میں لے گی اور نیم موصل (Semi Conductors) کو اس جنگ میں بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ چِپ(chip)کی صنعت ہی وہ صنعت ہے جہاں امریکا اپنی سبقت کوبرقراررکھناچاہتاہے اوردوسری طرف چین اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے سرتوڑکرششیں کررہا ہے۔یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے گزشتہ جی 20 اجلاس میں بھی ٹرمپ اورصدرشی کے درمیان یہ تنازع برقراررہا، اس لیے کہ کمپیوٹرچِپ کواس وقت ڈیجیٹل معیشت اور قومی سلامتی کے امورمیں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔کاریں ٹائروں پرچلنے والے کمپیوٹرکی شکل اختیارکرچکی ہیں، بینک ایسے کمپیوٹربن چکے ہیں، جورقم کی منتقلی یا اس سے متعلق دیگر کئی خدمات کا مرکز ہیں۔ فوجیں اپنی جنگیں لوہے کے ساتھ سلی کون سے بھی لڑرہی ہیں۔ امریکااوراس کے اتحادی ممالک کوریااورتائیوان کی صنعتوں کواس جدیدشعبے پرغلبہ حاصل ہے جبکہ چین اب بھی High-End Chips کے لیے دوسرے ممالک پرانحصارکرتاہے۔ چین کی Seminductors کی درآمدکاخرچ تیل کی درآمد کے خرچ سے بھی زیادہ ہے۔ فروخت کے لحاظ سے دنیا کی 15 بڑی کمپنیوں میں ایک بھی چینی کمپنی شامل نہیں ہے۔
ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی چین اس حوالے سے اپنی منصوبہ بندی کرچکاتھا۔2014ء میں چین نے اپنی اس صنعت کوفروغ دینے کے لیے تقریباً ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا۔ 2015ء میں جاری ہونے والے Made in China 2025 منصوبے میں بھی Semi Conductorsکوخاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس جدید صنعت کی ترقی کے حوالے سے چین کے عزائم نے اوباماکوکافی پریشان کیے رکھا۔ 2015ء میں اوبامانے ’انٹیل‘ کواپنی جدیدترین chipsچین کو فروخت کرنے سے روک دیاتھا،اس کے علاوہ 2016ء میں جب ایک چینی کمپنی ایک چِپ بنانے والی جرمن کمپنی کوخریدنے کی کوشش کررہی تھی توامریکا نے اس سودے کورکوادیا۔اوباماکے عہدہ چھوڑنے سے پہلے وائٹ ہاؤس سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں ایسی چینی کمپنیوں کے خلاف اقدام کرنے کی تجاویزدی گئی تھیں جوٹیکنالوجی ٹرانسفر پربضد تھیں۔دیگرممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ تائیوان اورجنوبی کوریاکے ہاں پہلے سے ہی اس طرح کی پالیسیاں موجودہیں جن کے تحت چینی کمپنیوں پرجدیدترین آلات خریدنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
اگرچہ چِِپ کی یہ جنگ ٹرمپ کے آنے سے پہلے کی ہے،تاہم ٹرمپ نے اس جنگ میں مزیدتیزی پیداکردی ہے۔انہوں نے Qualcommکی فروخت کے حوالے سے چین کے ڈرسے سنگاپورکی کمپنی کی جانب سے لگائی جانے ولی بولی کومسترد کردیا۔ اسی سال کے آغازمیں امریکی کمپنیوں کواپنی chipsاورسافٹ ویئر چینی ٹیلی کام کمپنی ZTE کوفروخت کرنے پرپابندی لگائی۔جس کی وجہ سے یہ کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ٹرمپ کے بقول چینی صدرکی اپیل پرفی الحال انہوں نے یہ فیصلہ واپس لیاہے ۔
دو باتیں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔پہلی یہ کہ امریکاکواس بات کااندازہ ہے کہ اسے چین پرحاصل سبقت صرف اورصرف جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔امریکا نے درآمدات کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے کافی پابندیاں لگائیں ہیں،ان ہی پابندیوں کی وجہ سے چینی کمپنی Fujian Jinhuaبھی متاثر ہوئی ،جس پرالزام تھاکہ اس نے خفیہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نئی آنے والی ٹیکنالوجی پرمسلسل پابندیاں لگارہاہے ۔ دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین Semi Conductorsکی صنعت میں خود مختاری کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں کررہاہے اوراس معاملے میں حوصلہ افزائی کے ساتھ بے پناہ مراعات بھی دے رہاہے۔امریکانے جب ZTE پرپابندی لگائی توصد ر شی نے اپنے ملک کی تمام بڑی کمپنیوں سے رابطہ کیا۔ چین کی تمام بڑی کمپنیاں جن میں Alibaba,BaiduاورHuaweiشامل ہیں،چِپ سازی پرسرمایہ لگانے کے حوالے سے یکساں مؤقف رکھتی ہیں اورچین نے اس بات کوثابت کیاہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے راستے میں حائل ہوسکتاہے۔
دونوں ممالک کے مفادات میں کوئی خاص تبدیلی نظرنہیں آرہی۔امریکاکے خدشات بھی صحیح ہیں کہ وہ اگرچِپ کے شعبے میں چین پرانحصارکرے گاتواس کی ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔اسی طرح چین کاسپرپاوربننے کاخواب بھی اس وقت تک پورانہیں ہوسکتا،جب تک کہ وہ اس شعبے میں خود انحصارنہیں ہوجاتا۔چین اس دوڑکوجیتناچاہتاہے جبکہ امریکا اس دوڑمیں اپنی سبقت کوبرقرار رکھنا چاہتاہے ۔ سوال یہ ہے کہ امریکااپنے اس رویے میں کس حدتک آگے جاسکتاہے؟وائٹ ہاؤس کے موجودہ مقیم توچاہتے ہیں کہ Semi Conductorsکی مکمل فراہمی امریکامنتقل کردی جائے۔ یہ اچھی سوچ ہے لیکن عالمگیریت کے اس دورمیں یہ ممکن نہیں۔ امریکاکی ایک کمپنی کے 16000 سپلائر ہیں جس میں سے نصف غیر ملکی ہیں۔ چین بہت سی صنعتوں کے لیے مرکزی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ Qualcommاپنی پیداوارکادوتہائی چین میں فروخت کرتی ہے۔اس صنعت کودوحصوںمیں تقسیم کرنے سے امریکی صنعت کاراورصارفین دونوں ہی متاثر ہوں گی اوریہ مخالفت میں اٹھایاجانے والاایک ایسا قدم ہوگاجس سے اس صنعت میں موجود مسابقت کی فضاکو نقصان پہنچے گا۔
ویسے اگربڑے تناظرمیں دیکھاجائے توایسے کسی قدم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتا۔آج اگر امریکا کوچِپ سازی کی صنعت میں سبقت حاصل ہے تووہ ایسے اقدام سے اپنے حریف کی رفتارکوکم توکرسکتاہے لیکن چین کی ترقی کی راہ میں حائل ہوناشایدممکن نہ ہو۔جس طرح سلی کون ویلی کے عروج کی بڑی وجہ امریکی حکومت کی مدد تھی، بالکل اسی طرح چین بھی اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اورکاروباری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ چین نے ذہین لوگوں کواپنی جانب کھینچنے کے لیے ایک مراعاتی پیکیج بنایاہواہے۔ اس معاملے میں تائیوان پرخصوصی نظررکھی جاتی ہے۔ چین کی Huaweiجیسی کمپنیاں ایجادات کی صلاحیت رکھتی ہیں۔2015ء میں جب ’انٹیل‘ پرچِپ چین درآمدکرنے پرپابندی لگائی گئی تواس پابندی نے چینی سپرکمپیوٹرکی صنعت کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔