مسئلہ کشمیر، جہاد اور جماعت اسلامی (باب ہشتم)

289

ہندوستان
تقسیم کے وقت جماعت کے ۶۲۵ ارکان میں سے ۲۴۰ ہندوستان میں رہ گئے تھے۔انہوں نے وہاں علیحدہ ہوکر اور منظم ہوکر جماعت اسلامی ہندکے نام سے اقامت دین کے لیے عمدہ طریقے سے کام شروع کیا۔ قبل تقسیم جماعت کے دعوتی لٹریچر پر ان کا بھی اتناہی حق ہے جتنا کہ جماعت اسلامی پاکستان کا۔ وہاں کے پانچ بڑے مکتبوں نے ہمارے مرکزی مکتبے سے تقریباً ساڑھے سات ہزار روپے کا جماعتی لٹریچر منگواکر پورے ہندوستان میں پھیلایا ۔ یہ مکتبے الٰہ آباد‘ کانپور‘ کلکتہ‘ حیدرآباد (دکن) اور رامپور میں کام کررہے تھے۔
سری لنکا
سری لنکا میں ایک تنظیم مسلم برادر ہڈ موومنٹ(Muslim Brotherhood) کے نام سے قائم ہے‘ جو بیش تر طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل ہے۔ ان کی درخواست پر لٹریچر بھیجا گیا۔ کئی سال سے امریکا‘برطانیہ اور جرمنی‘ میں جماعت کا انگریزی لٹریچر وقتاً فوقتاً جاتا رہا ۔ مسلم لیگ فلا ڈیلفیا نے امریکا میں اسلام کی اشاعت کے لیے ہم سے دینی لٹریچر وہاں بھیجنے کی درخواست کی‘ چنانچہ جماعت کے انگریزی رسائل اور انگریزی میں دینی لٹریچر ان کو روانہ کیا گیا۔ جرمنی سے جناب فرانز ایرک عبدالرحمن‘ روسلر نائب صدر کمیونٹی‘ ہمبرگ کا ایک تفصیل خط جنوری ۱۹۵۱ء کے’’ ترجمان القرآن‘‘ میں چھپ چکا ہے‘ جس میں انھوں نے جنگ کے بعد جرمنی کے لوگوں کے ذہنی انتشار‘ مایوسی اور اخلاقی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ان کی سب سے بڑی ضرورت ایک ایسی فکر اور تصور حیات ہے جو انہیں مایوسی اور انتشار سے نکال کر اپنے پائوں پر کھڑا کردے‘ اور یہ نظریہ حیات ’’اسلام‘‘ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ہم نے انہیں انگریزی میں دعوتی لٹریچر بھیج دیا‘ جس کے بعد انہوں نے ہمیں شکریہ کا خط لکھا اور جماعت میں شامل ہونے کی درخواست دی۔
پاکستان کی مقامی زبانوں میں اشاعت و تبلیغ
اردو کے علاوہ سندھی اور بنگلہ زبان میں کافی لٹریچر شائع ہوا اور بنیادی کتابچے‘ رسالے اور کتابیں سندھی اور بنگلہ زبان میں منتقل کرلی گئیں۔ کئی اور کتابوں کا ترجمہ مکمل ہوا‘ لیکن سرمائے کی قلت کے سبب اب تک انہیں شائع نہیں کیا جاسکا۔ (دیکھیے روداد جماعت اسلامی حصہ ششم ص ۱۶۵‘ ۱۶۶ )۔
جماعت اسلامی کا دوسرا کل پاکستان اجتماع کراچی (۱۰‘۱۱‘۱۲‘۱۳؍نومبر ۱۹۵۱ء)(۲۱)
اس اجتماع عام میں حلقہ سرحد کے ارکان جماعت کو صوبہ سرحد میں عام انتخابات کے انعقاد کے سبب‘ اس اجتماع میں شرکت سے مستثنیٰ کردیا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے اراکین پر بھی شرکت کی پابندی نہیں تھی‘ کیونکہ آمدورفت کے مصارف عام فرد کی استطاعت سے باہر تھے۔ تاہم وہاں کے قیّم مولانا عبدالرحیم صاحب تشریف لائے۔ کراچی کے باہر سے ملک کے دیگر علاقوں سے تقریباً ایک ہزار اراکین اور متفقّین اجتماع میں شریک ہوئے۔ ان سب کے قیام و طعام کا بندوبست اجتماع گاہ ہی میں کیا گیا۔ چاروں دن‘ عام اور خاص کل سات اجلاس منعقد ہوئے۔ اجتماع کے عام اجلاسوں میں حاضری کم و بیش پندرہ سے پینتیس ہزار تک رہی اور خاص جماعتی کارکنوں کے اجلاس میں تین چار سے سات ہزار تک افراد شریک رہے۔ خواتین تقریباً آٹھ نو سو سے ڈیڑھ ہزار تک شریک رہیں۔
پہلا اجلاس
۱۰؍ نومبر بروز ہفتہ بعد نماز مغرب ۴ بجے سے پونے دس بجے رات تک ہوا۔ اجلاس کا آغاز امیر جماعت اسلامی سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی افتتاحی تقریر سے ہوا۔ اس تقریر میں مولانا نے موجودہ اہم بین الاقوامی اور ملک کے خارجی اور داخلی مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے‘ ان کے متعلق جماعت اسلامی کے نقطہ نظر اور جماعت کی پالیسی کو واضح کیا (تقریر کا متن روداد جماعت اسلامی حصہ ششم میں ملاحظہ کیجئے)۔
(جاری ہے)