لیبیا: باغی ملیشیا کا ترکی کے جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

335
طرابلس: شکست کھا کر مغربی حصے سے فرار ہونے والی حفتر ملیشیا کا ہیڈکوارٹر سنسان پڑا ہے
طرابلس: شکست کھا کر مغربی حصے سے فرار ہونے والی حفتر ملیشیا کا ہیڈکوارٹر سنسان پڑا ہے

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک)لیبیا میں باغی ملیشیا نے ہوائی اڈوں سے ترکی جانے والی تمام پروازوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے سمندری حدود میں ترک جہازوں کو نشانہ بنانے کے احکامات جاری کردیے۔ باغی فوج کے ترجمان احمد مسماری کا کہنا تھا کہ طرابلس میں ترکی اور قطر مداخلت کرکے لیبی حکومت کو بحری، فضائی اور خشکی کے راستے امداد فراہم کررہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق غریان شہر پر ملیشیاؤں کے حملے دوران ترکی نے ڈرون طیاروں کے ذریعے مداخلت کی۔ اب سے ترکی کو دشمن شمار کیا جائے گا اور ملک میں اخوان المسلمون کا منصوبہ خاک میں ملا دیا جائے گا۔ ترجمان نے باور کرایا کہ ملیشیا غریان پر حملہ کرے گی اور وہاں موجود حکومت نواز ملیشیاؤں کو برباد کردے گی۔ مسماری کے مطابق ملیشیا نے نے حکومتی فوج کی سبیعہ کی جانب پیش قدمی کو پسپا کر دیا ہے۔واضح رہے کہ باغی ملیشیا کی طرف سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ خلیفہ حفتر نے الزام عائد کیا ہے کہ ترکی نے باغیوں کو مدد فراہم کی تھی، جس کی وجہ سے انہیں ناکامی ہوئی۔ واضح رہے کہ ترکی لیبیا میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا حامی ہے اور جنرل حفتر کی باغیوں سے مراد اس آئینی حکومت کی فوج اور اس سے وابستہ جنگجو گروہ ہیں۔ سابق صدر معمر قذافی کی معزولی اور ہلاکت کے بعد سے شمالی افریقی ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔