موجودہ بجٹ کو ہر سیکٹر نے مستردکیا ہے ،آل پاکستان انجمن تاجران

155

لاہور (نمائندہ جسارت) مرکزی سیکرٹری جنرل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر کی ملک امانت، میاں وقار، میاں خلیل عبیر، عمران بشیر ودیگر عہدیدران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2019ء ایک ایسی دستاویز ہے جیسے کاروباری افراد سمیت ہر سیکٹر نے مسترد کیا ہے یہ بجٹ نہیں ہے تضادات کا مجموعہ ہے یہ آئی ایم ایف نے بجٹ بنایا ہے ہم اور ہماری پاکستان بھر کی تمام تاجر تنظیمیں اس کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں یہ بجٹ ملک کے امن کو تباہ کرنے کا سبب بنے گا ایمنسٹی اسکیم میں بنیادی خامی ہے کہ ہمیں تو دستاویزی کیا جارہا ہے لیکن ایمنسٹی میں غیر دستاویزی ادھار کی رقوم کو دستاویزی بنا نے کا کوئی پلان نہیں دیا گیا ملک میں پانچ کروڑ اکاؤنٹ ہیں جن میں سے صرف دس فیصد رجسٹرڈ افراد کے ہیں حکومت غیر رجسٹرڈ بینک اکاونٹ ہولڈرز کو رجسٹر ڈ کرے نہ کے پانچ لاکھ روپے بینک بیلنس رکھنے والے اکاونٹ ہولڈرز کے ساتھ ڈرامے کرے ، رقبے کے اعتبار سے دکانوں پر ٹیکس لگانا کہاں کا انصاف ہے ٹیکس آمدن کی بنیاد پر ہوتا ہے اگر ایف بی آر کے لوگ دکانوں پر فیتے لے کر آئے تو فیتی فیتی ہوجائیں گے۔ یکم جولائی کو اسلام آباد میں پورے پاکستان کے تاجروں کا ہنگامی کنونشن رکھا ہے یکم جولائی کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جو متفقہ اور مشترکہ ہوگا دیگر تاجر تنطیموں سے مشترکہ احتجاجی پلان ترتیب دینے کیلیے میاں خلیل عبیر، میاں وقار اور ملک امانت پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل قائم کردی گئی ہے ۔ ڈسٹی بیوٹر / ہول سیلرز/ ڈیلرز کے غیر رجسٹرڈ سیلز پر شناختی کارڈ نمبر درج کرنے کی شرط کو ختم کیا جائے۔ ڈسٹی بیوٹر / ہول سیلرز/ ڈیلرزکے پرافٹ اینڈ لاس اکائونٹ کی بنیاد پر ٹیکس لاگو کیا جائے نہ کہ1-5 فیصد ٹرن آور کو بنیاد بنا کر وصول کیا جائے۔ 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن کا ٹیکس استثنا بحال کیا جائے۔ بجلی کے کمرشل بلوں پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولی ختم کی جائے۔ ریٹیلرز کیلیے فیئر ون اور فیئرٹو کا نظام ختم کیا جائے ، سابقہ نارمل طریقہ کار کے مطابق ہی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ، ٹیکس بزنس اور آمدن کے مطابق لگایا جائے۔ کمرشل امپورٹرز پر ریٹیل پرائس لسٹ چسپاں کرنے کی پابندی کو ختم کیا جائے۔ مختلف جرمانوں کی سابقہ شرح بحال کی جائے ، جرمانوں کی مد میں ہولناک اضافہ واپس لیا جائے۔ منڈیوں میں آڑھتیوں اور بروکرز پر تجدید لائسنس فیس سابقہ شرح پر بحال کی جائے اور ظالمانہ اضافہ والس لیا جائے۔ کسی بھی تاجر کے خلاف ٹیکس ایشوز پر ایف آئی آر درج کرنے والا قانون ختم کیا جائے۔