قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

227

..

 

اْن لوگوں نے کہا کہ ’’اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟‘‘۔ اس نے کہا ’’ جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو‘‘ آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سْرخ ہو گئی تو اس نے کہا ’’لاؤ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا‘‘۔ (یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔ (سورۃ الکہف:94تا 97)

سیدنا حنظلہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر تھے آپ ؐ نے ہمیں نصیحت کی تو جہنم کی یاد دلائی پھر میں گھر کی طرف آیا تو میں نے بچوں سے ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے دل لگی کی میں باہر نکلا تو ابوبکرؓ سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے اس کا تذکرہ کیا پس ہم رسول اللہ ؐ سے ملے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول حنظلہ تو منافق ہوگیا آپ ؐ نے فرمایا ٹھیر جاؤ کیا بات ہے؟ میں نے پوری بات ذکر کی پھر سیدنا ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے انہوں نے کہا تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے حنظلہ یہ کیفیت کبھی کبھی ایسے ہوتی رہتی ہے اگر تمہارے دل ہر وقت اسی طرح رہیں جیسے نصیحت و ذکر کرتے وقت ہوتے ہیں تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں یہاں تک کہ وہ راستوں میں تم سے سلام کریں۔ (صحیح مسلم)