سندھ حکومت نے فنڈز ہڑپ کیے،کے الیکٹرک کا بل کیسے ادا کریں؟مئیر

93

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ میں سندھ حکومت کے کرپٹ وزراء کی کرپٹ باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا، سپریم کورٹ نے سندھ کو ملک کی کرپٹ ترین حکومت قرار دیاہے اس کے بعد ان کی کرپشن کے بارے میں اور کیا ثبوت چاہیے۔ اپنے ایک بیان میں میئر کراچی نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کو وکیل ہوتے ہوئے بھی شاید قانون کا کچھ پتا نہیں ہے اور نہ ان کو اس مسئلہ کے بارے میں معلومات ہیں جس پر انہوں نے بات کی ہے۔ایک سنجیدہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بات کرنے سے پہلیزیرنظرمسئلے کے بارے میں پوری معلومات حاصل کرے، مرتضیٰ وہاب کو یہ معلوم ہی نہیں کہ پیپلز پارٹی کراچی کے ساتھ کیا کر رہی ہے اور کے ایم سی کے کتنے شیئرز ہڑپ کر چکی اس لیے اس کی باتوں پر کیا کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو کے ایم سی کے مختلف مد میں اربوں روپے دینے ہیں اور کے ایم سی کا سارا فنڈ ہڑپ کرلیا ہے تو ہم کے الیکٹرک کا بل کہاں سے دیں؟عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ کے ایم سی کی طرف کے الیکٹرک کے 58 کروڑ روپے کے بقایا جات وہ ادا کرے کیونکہ وہ کے ایم سی شیئر پورا ادا نہیں کر رہی۔ میئر کراچی نے کہا کہ 11 سال سے پیپلز پارٹی کراچی کا پیسا کھارہی ہے، شہر کو اس کا حق نہیں دیا جارہا،ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کے ایم سی کے اکٹرائے ٹیکس کی مد میں 50 کروڑ ماہانہ روکا جاتا ہے جو سالانہ 6 ارب روپے بنتا ہے ہمیں اکٹرائے کا پورا شیئر ہی مل جائے تو سارے مسائل ہی حل ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کو اس کا حق دے دیا جائے تو بل کی ادائیگی کے ساتھ شہر کی قسمت بھی بدل دیں گے،تاہم پیپلز پارٹی کراچی کا کیا سندھ کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ ایسے حالات میں ترجمان سمیت کسی کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بغیر معلومات کے کوئی بات کرے جو غلط ہو۔لہٰذا مرتضیٰ وہاب کو کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے اس کے بارے میں پوری معلومات حاصل کرنا چاہیے۔