سندھ سوشل سیکورٹی کا 6 ارب روپے کا فاضل بجٹ منظور

285
صوبائی وزیر محنت غلام مرتضیٰ بلوچ سیسی کے بجٹ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
صوبائی وزیر محنت غلام مرتضیٰ بلوچ سیسی کے بجٹ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

کراچی(اسٹا ف رپورٹر) سندھ ایمپلائزسوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کا بجٹ اجلاس صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل چیئرمین گورننگ باڈی سیسی غلام مرتضیٰ بلوچ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میںسندھ سوشل سیکورٹی کے آئندہ مالی سال 2019-20ء کے لیے 6 ارب 98 کروڑ41لاکھ3ہزار روپے کے فاضل بجٹ کی منظوری دی گئی۔ آئندہ مالی سال 77کروڑسے زائد خالص فاضل آمدنی متوقع ہے،طبی سہولتوں اور مالی فوائد کیلیے 4 ارب27کروڑ8لاکھ 6ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ کمشنر سیسی کاشف گلزار شیخ نے پیش کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لیبر عبدالرشید سولنگی،اراکین گورننگ باڈی شاہجہاں احمد شیخ، زاہد سعید، عبدالواحدشورو، ناصرعزیزمنصور، محمدخان ابڑو کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین گورننگ باڈی سیسی مرتضیٰ بلوچ نے کہا کہ سوشل سیکورٹی اسکیم کا بنیادی مقصد محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو بہتر سے بہتر سہولتوں کی فراہمی ہے اور اس کے لیے سیسی کے آئندہ مالی سال 2019-20ء کے بجٹ میں تمام پیرا میٹرز کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں ’’محنت کش دوست‘‘ بجٹ بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیر محنت نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں محنت کشوں کی فلاح و بہبود کیلیے 4ارب 27کروڑ 8لاکھ 6ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے صرف طبی سہولتوں کی فراہمی پر 4ارب 14کروڑ 48لاکھ 35ہزار روپے خرچ کیے جائیں گے جو کہ کل اخراجات کا 67فیصد ہے۔ انہوں نے بجٹ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں سوشل سیکورٹی کنٹری بیوشن کی مد میں آمدنی کا تخمینہ 6 ارب 45کروڑ18لاکھ 62ہزار روپے لگایا گیا ہے جس میں خالص فاضل آمدنی 77کروڑ28لاکھ 28ہزار روپے متوقع ہے۔ بجٹ میں کل اخراجات کا تخمینہ 6ارب 21کروڑ 26لاکھ 41ہزار روپے لگایا گیا ہے۔