عباسی اسپتال: 3 روز میں مطالبات پورے نہ کیے گئے تو اجتماعی استعفے دیے جا سکتے ہیں، ینگ ڈاکٹرز

169

کراچی (رپورٹ: قاضی عمران احمد) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تیسرے بڑے اسپتال کے انتظامی امور چلانے میں ناکام ہو گئی، ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج، ادویات اور طبی سہولتوں کے فقدان نے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیں، 8 دن گزرنے کے باوجود عباسی شہید اسپتال میں ہاؤس جاب ڈاکٹرز کے وظائف کی ادائیگی اور نکالے گئے ڈاکٹرز کی بحالی کے لیٹرز جاری نہیں کیے جا سکے، ہاوۤس جاب ڈاکٹرز نے تین روز میں مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اجتماعی استعفے پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اجتماعی استعفوں کی صورت میں عباسی شہید اسپتال کی ایمرجنسی، ٹراما سینٹر اور تمام آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹس بند ہونے کا خدشہ، مریض رُل جائیں گے۔ اسپتال انتظامیہ کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان (سی پی ایس پی) کے قواعد و قوانین کے برخلاف سالانہ 30 سے 35 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو بغیر وظائف کے ٹریننگ پر مجبور کر کے ان کے وظائف اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ینگ ڈاکٹرز اور انتظامیہ کے درمیان 21 جون کو مذاکرات ہوئے جس میں اسپتال انتظامیہ کی جانب سے زیر تربیت ڈاکٹرز کے وظائف اور نکالے جانے والے ڈاکٹرز کی بحالی کے احکامات تین دن میں جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن ینگ ڈاکٹرز کے مطابق اس بات کو 8 روز گزر چکے ہیں جب بھی اسپتال انتظامیہ سے بات کی جاتی ہے وہ آج کل کرتے ہیں، انتظامیہ کی جانب سے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر اسپتال انتظامیہ نے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا اور تین روز کے اندر ڈاکٹرز کی بحالی سمیت تمام مطالبات کو حل نہ کیا تو ینگ ڈاکٹرز پہلے مرحلے پر ایم ایس آفس میں جمع ہو کر اپنے اجتماعی استعفے پیش کر دیں گے اور ان استعفوں کے باعث اسپتال میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران کی ذمے دار اسپتال انتظامیہ ہوگی جب کہ انتہائی قدم کے طور پر دوسرے مرحلے میں کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے جس کے بعد عباسی شہید اسپتال کی بطور ٹیچنگ اسپتال حیثیت ختم ہو جائے گی جو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ساکھ کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال میں 210 ہاؤس آفیسرز اور 137 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کام کرتے ہیں جنہیں اسپتال انتظامیہ سی پی ایس پی کے قوانین کے مطابق مقرر شدہ وظائف دینے کی پابند ہے اور کسی بھی ہاؤس جاب آفیسر یا پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر کو بغیر کسی ادائیگی کے ہاؤس جاب کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ذرائع نے بتایا کہ اسپتال انتظامیہ سالانہ 30 سے 35 ینگ ڈاکٹرز کو ایک حلف نامے کے ذریعے سی پی ایس پی کے قوانین کے برخلاف بغیر وظیفے کے پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور ان ڈاکٹرز کا پے سلپس میں نام ہوتا ہے جس سے ان کے وظائف وصول کر کے انتظامیہ کی جیب میں ڈال لیے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ینگ ڈاکٹرز نے اجتماعی استعفے پیش کر دیے تو اسپتال میں بہت بڑا انتظامی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور اسپتال کی ایمرجنسی، ٹراما سینٹر سمیت تمام او پی ڈیز بند ہو جائیں گی جس کی وجہ سے یومیہ اسپتال آنے والے ہزاروں مریضوں کے لیے انتہائی مشکلات و پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں جب کہ آپریشن تھیٹرز بھی بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی عدم دل چسپی اور غفلت نے کراچی کے تیسرے بڑے اسپتال کو انتظامی بحران سے دو چار کر رکھا ہے جب کہ بلدیہ کے تحت چلنے والے شہر کے دیگر اسپتالوں اور ڈسپنسریز کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ صحت سیاسی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ عامة الناس کو تا حال صحت کی مناسب سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برس بھی ڈاکٹرز اور عملے نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کئی روز تک احتجاج کیا تھا اور اس وقت بھی حکومت سندھ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بجٹ سے ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کر دی گئی تھیں۔