حمزہ شہباز مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

81
لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پنجاب اسمبی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے ہیں
لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پنجاب اسمبی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)احتساب عدالت نے رمضان شوگر مل اور آمدنی سے زاید اثاثہ جات ریفرنس میں ملوث اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے نے انہیں مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔ نیب کو حکم دیا ہے کہ حمزہ شہباز کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ نیب حمزہ شہباز کو 10 جولائی کو دوبارہ نیب عدالت میںپیش کرے گا۔نیب نے حمزہ شہباز شریف کو پہلے سے حاصل کردہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر بدھ کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے (ن) لیگی رہنمائوں اور کارکنوں کو احتساب عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے حسب معمول رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں لیکن لیگی کارکنان رکاوٹوں کے باوجود احتساب عدالت کے باہر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہاں انہوں نے نیب اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی لیکن نیب حکام مقررہ راستے کے بجائے متبادل راستے سے حمزہ شہباز کو احتساب عدالت میں لے جانے میں کامیاب ہو گئے اور لیگی کارکنان اپنے قائد کا انتظار کرتے رہ گئے جب کہ اسی ریفرنس میں ملوث اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف عدالت میں پیش نہ ہو سکے اور ان کے وکیل نے شہباز شریف کی غیرحاضری کی درخواست احتساب عدالت میں دائر کر دی جب کہ حمزہ شہباز نے احتساب عدالت نمبر 5 میں اپنی حاضری مکمل کرائی۔ حمزہ شہباز نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ کے بعد کئی اور منی بجٹ آئیں گے، 18 ہزار والا تنخواہ دار طبقہ کیسے گزارا کرے گا، 70برس کی تاریخ میں آج تک ایسا معاشی بحران پہلے کبھی نہیں آیا۔ حمزہ شہباز کا کہنا تھا احتساب کے نام پر انتقام جاری ہے، عمران نیازی اس انتقام کی آگ میں خود جل رہا ہے، ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔