کراچی کا پانی کہاں جارہا ہے؟ نیب نے تحقیقات شروع کردی

167

کراچی (رپورٹ: محمد انور) قومی احتساب بیورو نے زیر زمین پانی کی آڑ میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی لائنوں کا میٹھا پانی فروخت کرنے کے الزام میں واٹر بورڈ کے ہائیڈرنٹ سیل کے ذمے دار انجینئروں اور عملے کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس ضمن میں’’سب سوائل واٹر‘‘ کے ٹھیکیداروں کو ضروری تفصیلات کے ساتھ نیب آفس میں طلب کرلیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ زیر زمین پانی کے لائسنس ہولڈر ٹھیکیدار کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذمے دار انجینئروں اور ہائینڈرنٹس سیل کے عملے کی ملی بھگت سے زیر زمین پانی کے بجائے لائنوں کا پانی مبینہ طور پر غیر قانونی حاصل کرکے صنعتوں اور مختلف افراد کو بھاری قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ نیب کے علم میں یہ بھی بات آئی تھی کہ ہائیڈرنٹ سیل کے ’’کنوارے انجینئر‘‘ نے اپنی پارسائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے مختلف ہائیڈرنٹس کے اوقات کار بھی بڑھا دیے ہیں اور یومیہ 18 ملین گیلن پانی کے بجائے 20 سے 22 ملین گیلن پانی ہائیڈرنٹس سے لیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہائیڈرنٹس کے نوزل کی تعداد بھی بڑھالی گئی ہے تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ٹینکرز کو بھرا جاسکے۔ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک صرف 13 ملین گیلن پانی ہائنڈرنٹس سے لیا جاتا تھا جس میں 5 ملین گیلن کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے متعلقہ انجینئرز کے خلاف تحقیقات کے ساتھ زیر زمین پانی حاصل کرنے والے 5 لائسنس ہولڈر ٹھیکیداروں کو طلب کرکے ان سے ان صنعتوں کی تفصیلات اور وہاں سپلائی کیے جانے والے پانی کی مقدار اور دیگر تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تحقیقات کے دوران تمام ہائیڈرنٹس پر نصب واٹر میٹرز کو بھی چیک کیا جا رہا ہے جبکہ زیر زمین پانی کے ٹینکرز کو بھی اچانک چیک کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انکوائری سے شہر کا پانی لائنوں کے ذریعے نہ پہنچنے کی وجوہات کا بھی پتا چلایا جائے گا۔