حکومت ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ،اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ

123
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف‘ مریم نواز‘ بلاول زرداری ‘محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنما موجود ہیں
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف‘ مریم نواز‘ بلاول زرداری ‘محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنما موجود ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ۔تفصیلات کے مطابق ا ے پی سی کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد حکمرانوں کو تمام سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔ ملک کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکا ر اور ملکی معیشت زمین بوس ہو چکی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک دیوالیہ پن کی حدود کو عبور کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حکومتی قیادت کے فیصلوں نے ہمارے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے۔کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی سے غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور بیرونی قرضوں کا سیلاب اور معاشی اداروں کی بد نظمی معیشت کو دیوالیہ کرنے کو ہے۔ غربت و افلاس کی بڑھتی صورتحال پر تشدد عوامی انقلاب کی راہ ہموار کرتی دکھائی دیتی ہے۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاشی زبوں حالی، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ملکی سلامتی کیلیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور حکمرانوں کا ایجنڈا ملکی مفادات کی بجائے کسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملکی حالات بہت بڑا سکیورٹی رسک ہیں۔ حکومت کے فیصلے ملکی سلامتی، خود مختاری اور بقاء کیلیے خطرہ بن چکے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیرونی قرضوں، بیرونی ادائیگیوں کے توسط سے بیرونی طاقتوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے جب کہ بڑھتی شرح سود،کمزور ہوتا روپیہ اور بڑھتے ٹیکس منفی عوامل ہیں جن سے برآمدات مزید کم ہوں گی۔ بیرونی تجارت اور بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ بڑھے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ملک دشمن قوتوں کی ایماء پر معاشی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ بزنس کے مواقع مشکل بنا دیے گئے ہیں اور معیشت آئی ایم ایف کے سپرد کر دی گئی ہے۔کل جماعتی کانفرنس کے بعد شہباز شریف اور بلاول زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دھاندلی شدہ انتخابات کے خلاف 25 جولائی کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یوم سیاہ منایا جائے گا اور حکومت کے خلاف مشترکہ جلسے کیے جائیں گے۔ یوم سیاہ پر چاروں صوبوں میں مشترکہ جلسے کیے جائیں گے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں پارلیمانی نظام حکومت اور اٹھارہویں ترمیم کے خلاف کوششوں کی مذمت کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اے پی سی میں اپوزیشن کے تمام ممبران کے دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کو چلانے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی جس کا نام رہبر کمیٹی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ احتساب پر زور دیا گیا اور جعلی احتساب کو مسترد کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ 2000 سے اب تک کے قرضے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو آئینی طریقے سے ہٹایا جائے گا اور نئے چیئرمین سینیٹ کو لانے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کرے گی۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ججز کے خلاف ریفرنسز عدلیہ پر حملہ ہے انہیں واپس لیا جائے۔ عدلیہ میں اصلاحات اور ججوں کی تقرری پر نظرثانی پر زور دیا گیا۔انہوں نے لاپتہ افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کی بازیابی کے لیے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نااہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی تاکہ رائے عامہ کو عوام دشمن ایجنڈے کے خلاف منظم کیا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے 2 اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیے جائیں تاکہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے قانون سازی کی جائے، وہ لوگ جو سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت میں پیش نہیں کیے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے جبکہ تشدد کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں رہنماؤں نے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں 20 جولائی کو صوبائی اسمبلی کے ہونے والے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے حالیہ نوٹی فکیشن جس کے تحت فوج کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر تعینات کرنے اور سمری ٹرائل کا اختیار دیا گیا ہے، کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ یہ نوٹی فکیشن فی الفور واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس نے میڈیا پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندیوں اور سنسرشپ کی مذمت کی اور ان پابندیوں کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ قومی ڈیولپمنٹ کونسل (این ڈی سی) ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں، یہ اقدام اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش ہے جسے اجلاس نے مسترد کیا۔قبل ازیںپاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا اقدام اٹھائیں کہ عمران خان تو جائے لیکن ایسا کوئی شخص پھر نہ آسکے۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں۔ آج اگر صحیح فیصلے نہیں کیے تو قوم ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔مریم نواز نے کہا کہ ہماری لڑائی عمران خان سے نہیں انہیں سلیکٹ کرنے والوں سے ہے۔ بدھ کو اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ٹھوس فیصلے ہونے چاہییں۔ میں تجویز دیتی ہوں کہ نیب کی قید میں تمام اسیروں کو سیاسی قیدی ڈیکلیر کیا جائے۔ عوام کو اپوزیشن سے بہت توقعات ہیں، اگر قابل عمل لائحہ عمل عوام کے سامنے نہ رکھا تو مایوسی بڑھے گی۔70 سالوں میں ریکارڈ قرضہ اس حکومت نے 11 مہینوں میں لیا ہے۔سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیرمین کی تبدیلی پر بھی کوئی متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ پہلی اینٹ جب سڑکے گی تو جمہوریت کی پیٹھ میں چھڑا گھوپنے والی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔اگر مسلم لیگ ن پنجاب سے پیپلزپارٹی سندھ سے مولانافضل الرحمٰن اور اے این پی پختونخوا سے اور بلوچستان عوامی پارٹی اور اچکزئی بلوچستان سے آتے ہیں اور اسلام آباد بند کردیتے ہیں تواس پر بھی بات ہونی چاہیے۔کانفرنس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے ’رہبر کمیٹی‘ کے قیام کی تجویز دی، جو میثاق معیشت اور قومی چارٹر تیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا۔ حکومت کے ہاتھ روکنے کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے کانفرنس میں اجتماعی استعفوں کی تجویز دی گئی اور کہا گیا کہ اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔اسلام آباد میں منعقدہ اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، عوامی وطن پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے وفد بھی شریک ہوئے جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی (مینگل) نے شرکت نہیں کی۔