پختونخوا اسمبلی میں بجٹ منظور‘ اپوزیشن کا ہنگامہ، اسپیکر ڈیسک کا گھیرائو

57

پشاور(اے پی پی) خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے ہنگامہ کیا اور اسپیکر ڈیسک کا گھیرائو کرکے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں جبکہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی‘اسپیکر مشتاق غنی نے اپوزیشن اراکین کی ایوان میں تاخیر سے آمدکے باعث ان کی کٹوتی کی تمام تحریکیں قاعدہ148 کے تحت حذف کرکے مالی سال2019-20ء کے لیے 855 ارب روپے کے اخراجات زرکی منظوری دے دی جس کے بعد صوبائی بجٹ منظورکرلیاگیا ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو (ن) لیگ کے سرداریوسف کے علاوہ اپوزیشن کا کوئی بھی رکن ایوان میں موجود نہ تھا جس پر اسپیکر نے قاعدہ 148 کے تحت تحاریک کٹوتی کو ختم کرنے کے لیے ایوان سے منظوری لی‘ جس کے بعد مرحلے وار محکموں کے لیے بجٹ یعنی مطالبات زر کی منظوری کا آغاز ہوگیا۔ اپوزیشن کے چند اراکین جب ایوان میں آئے تو انہوں نے تحاریک کٹوتی پر بولنے کی اجازت مانگی تاہم اسپیکر نے واضح کیا کہ تمام تحاریک کٹوتی قواعد کے مطابق ختم کردی گئی ہیں جس کے بعد انہوں نے احتجاج شروع کردیا۔ ابتدا میں اپوزیشن کے چند اراکین نے اسپیکر کی ڈیسک کا گھیرائو کیا اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں لیکن حکومت نے ایک نہ سنی۔ اس دوران اپوزیشن کی تعداد میں اضافہ ہوا اور احتجاج نے شدت اختیار کی لیکن مطالبات زر کی منظوری کا سلسلہ جاری رہا۔ اپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اسپیکر گردی نامنظور کے نعرے مسلسل لگتے رہے۔ اسپیکر مشتاق غنی اپوزیشن اراکین کو منع کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن کسی نے ان کی نہ سنی۔ اپوزیشن نے صوبائی وزرا شہرام ترکئی ، تیمور سلیم جھگڑا اور سلطان محمد خان سے مائیک چھیننے کی بھی کوشش کی۔ احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کی نگہت اورکزئی اور ڈپٹی اسپیکر محمود جان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، نگہت اورکزئی نے وزیر اعلیٰ کے سامنے ان کی ڈیسک بجا کر شدید احتجاج کیا جس کے بعد حکومت نے مختلف 60 اداروں اور محکموں کے 855 ارب روپے کے مطالبات زر کی منظوری دے دی۔