نیشنل چیلنج کپ 19جولائی سے پشاور میں شروع ہو گا، پاکستان ائیرفورس ٹائٹل کا دفاع کرے گی

73

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر انجینئر سیّد اشفاق حسین شاہ نے 28ویں نیشنل چیلنج کپ کے حتمی شیڈول کی منظوری دیدی ہے، پاکستان فٹ بال فیڈریشن قائم مقام سیکرٹری کرنل (ر) فراست علی شاہ کے مطابق 20 روزہ ایونٹ کے مقابلے طہماس خان فٹ بال اسٹیڈیم پشاور میں ڈے اینڈ نائٹ میں روزانہ 2 میچز کی بنیاد پر کھیلے جائیں گے۔ایونٹ میں 16 ٹیمیں شرکت کریں گی جنہیں چار، چار کے چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 19 جولائی کو رنگا رنگ تقریب میں افتتاحی میچ کھیلا جائے گا۔ 18 جولائی کو ایونٹ میں شریک ٹیموں کی منیجرز میٹنگ ہو گی۔ پہلا مرحلہ لیگ کی بنیاد پر ہو گا۔ ہر ٹیم اپنے گروپ میں 3,3 میچز کھیلیں گی۔گروپ میچز 30 جولائی کو مکمل ہوں گے۔ ہر گروپ کی 2 ٹاپ ٹیمیں کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔31 جولائی اور یکم اگست کو کوارٹر فائنل، دونوں سیمی فائنل 2 اگست کو کھیلے جائیں گے ۔ 3 اگست کو آرام کا دن ہو گا جبکہ تیسری پوزیشن اور فائنل 4 اگست کو کھیلے جائیں گے۔ ٹیموں کے ناموں کو شامل ڈراز کرنے کیلئے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ جلد ڈراز کا اعلان کر دیا جائے گا۔ نیشنل چیلنج کپ دراصل محکمہ جاتی ٹیموں کا ایونٹ ہے جس کی بنیاد 1979ء میں انٹر ڈیپارٹمنٹل چمپئن شپ کے نام سے رکھی گئی۔ کے آر ایل نے 6 بار، الائیڈ بینک نے 4 بار اور پاکستان آرمی، کریسنٹ ملز، نیشنل بینک، پاکستان ایئرفورس اور پی ٹی سی ایل نے 2,2 بار فتح اپنے نام کی۔ کے آر ایل نے مجموعی طورپر 10 اور الائیڈ بینک نے 5 فائنل کھیلے۔ پاکستان واپڈا اور کے الیکٹرک کی ٹیموں کوبھی 4,4فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے لیکن کسی بھی فائنل میں انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔کے الیکٹرک کے محمد رسول 23گول کے ہمراہ آل ٹائم ٹاپ اسکورر ہیں۔سندھ گورنمنٹ پریس کیپٹن شوکت کی قیادت میں مسلم کمرشل بینک کو فائنل میں شکست دے کر اوّلین فاتح قرار پائی۔1984ء اور 1985ء میں اسے انٹر پرونشیل چمپئن شپ کا نام دیا گیا۔ 1984ء میں پی آئی اے نے واپڈا اور1985ء میں حبیب بینک نے پنجاب کو شکست دی تھی۔1987ء میں پریذیڈنٹ کپ کے نام سے کھیلا جانے والے ایونٹ کے فائنل میں کریسنٹ ملز نے کے پی ٹی کو ناکا م کیا تھا۔ 1990ء تا 1991ء اسے نیشنل انٹرڈپارٹمنٹل چمپئن شپ کا نام دیا گیا۔ 1990ء میں کے پی ٹی نے حبیب بینک اور 1991ء میں مارکر کلب کوئٹہ نے کے پی ٹی کو ناکام کیا۔1992ء تا 1994ء اسے پاکستان انٹر ڈیپارٹمنٹل چمپئن شپ کے نام سے پکارا گیا۔1992ء میں کریسنٹ کلب فیصل آباد نے مارکر کلب کوئٹہ، 1993ء میں نیشنل بینک نے پاکستان اسٹیل اور 1994ء میں جنرل فین نے پاکستان ایئرفورس کو فائنل میں قابو کیا۔ ایک سال کے وقفہ کے بعد ایک بار پھر اسے پی ایف ایف کپ کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ 1996ء تا 2003ء اسی نام سے کھیلا جاتا رہا۔ الائیڈ بینک نے 1996ء، 1998ء اور 1999ء لگا تار 3بار اس ٹورنامنٹ کو جیت کر ٹائٹل کی ہیٹٹرک بنائی۔ 1997ء میں اس کا انعقاد ممکن نہیں ہوا تھا۔ 2001ء اور 2002ء میں پاکستان آرمی، 2002ء میں الائیڈ بینک، 2003ء اور 2005ء میں پی ٹی سی ایل، 2008ء میں پاکستان نیوی، 2009ء، 2010ء، 2011ء اور 2012ء میں کے آر ایل نے مسلسل 4مرتبہ فاتح ٹرافی اپنے نام کرکے الائیڈ بینک کی ہیٹرک اور 4 ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ برابر کیا۔2013ء میں نیشنل بینک، 2014ء میں پی آئی اے، 2015ء اور 2016ء میں کے آریل نے مسلسل چھٹی بار ٹائٹل جیت کر الائیڈ بینک کے ریکارڈ کو توڑ کر اسے مزید بہتر بنایا۔2018ء میں پاکستان ایئر فورس کو واپڈا کے خلاف فائنل میں کامیابی حاصل ہوئی اور بحیثیت دفاعی چمپئن اس سال اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔کے الیکٹرک کے محمد رسول 23 گول کے ساتھ آل ٹائم ٹاپ اسکورر کا اعزاز اپنے نام کئے ہوئے ہیں۔