اے پی سی بلائو یا تحریک چلائو ، این آر او نہیں دونگا، وزیر اعظم

100
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان،خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے ملاقات کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے بلوچستان،خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندے ملاقات کررہے ہیں

 

اسلام آباد(آئی این پی +آن لائن+مانیٹر نگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن اے پی سی کرے یا تحریک چلائے کسی کو این آر او نہیں ملے گا،وزیراعظم نے واضح کیا کہ ترکی یا کسی بھی عرب ملک کے سربراہ نے نوازشریف کے لیے این آر او سے متعلق کوئی بات نہیں کی،کسی ملکی شخصیت نے بھی این آر او کے بارے میں نہیں کہا، سب جانتے ہیں میں کرپشن مقد مات پر سمجھوتا نہیں کروں گا،اپوزیشن اے پی سی بلائے یا تحریک چلائے ہمیں کوئی پروا نہیں،تحریک انصاف اپنی کارکردگی سے جواب دے گی، جس نے بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے اس سے حساب لیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف اور اتحادیوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں بجٹ کی منظوری کے حوالے سے حکمت عملی اور ارکان کی
بجٹ تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا ۔اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کسی ملکی شخصیت، ترکی یا عرب ممالک کے کسی سربراہ نے نواز شریف کے لیے این آر او سے متعلق ان سے براہ راست رابطہ نہیں کیا کیوں کہ سب کو معلوم ہے کہ میں کرپشن مقدمات پر سمجھوتا نہیں کروں گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ترکی کی جانب سے اس سلسلے میں بات چیت کا خدشہ تھا تاہم ترک صدرنے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔انہو ں نے کہاکہ این آر او کسی صورت نہیں ہو گا،چاہے جتنے مرضی رابطے کر لیں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ وزیراعظم نے ڈیل کی اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اے پی سی بلائے یا تحریک چلائے ، کوئی پروا نہیں،تحریک انصاف اپنی کارکردگی کے ذریعے جواب دے گی،موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ بن ہی نہیں سکتا۔وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے ترقیاتی کاموں کی خاطر ملکی تاریخ میں پہلی بار پاک فوج نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیا،معاشی سمت کا تعین کردیا ہے، بحران سے نکل رہے ہیں، ارکان پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ارکان نے شکوہ کیا کہ صرف سیاستدانوں کا احتساب ہورہا ہے، بیوروکریسی کو کوئی نہیں پوچھتا، جن بیوروکریٹس کے بچے باہر پڑھتے ہیں ان سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ارکان پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجٹ منظوری قانونی تقاضا ہے اس لیے تمام ارکان ایوان میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے لیے ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کیا ہے اور پاک فوج نے فاٹا اور بلوچستان کے لیے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیا۔ علاوہ ازیںوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کے لیے وفاقی حکومت کردار ادا کررہی ہے،ماضی کے حکمرانوں نے بلوچستان کی پسماندگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے صرف دعوے کیے مگر بلوچستان کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ،پی ٹی آئی اور ان کی اتحادی جماعتیں بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کے لیے بہت سے منصوبوں پر کام کررہی ہیں، آئندہ 5برس میں بلوچستان میں ترقی کادور شروع ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔وفد میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال،ارکان قومی اسمبلی سردار محمد اسرار ترین، خالد حسین مگسی، احسان اللہ ریکی اور روبینہ عرفان موجود تھے جب کہ اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک، معاونین خصوصی نعیم الحق اور ندیم افضل گوندل بھی ملاقات میں موجود تھے۔
عمران خان