منامہ کانفرنس شروع‘ فلسطین، اردن اور لبنان میں احتجاج

81

منامہ (رپورٹ: منیب حسین) مشرق وسطیٰ میں امن اور خوش حالی کے نام پر فلسطین کی سودے بازی کے لیے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہونے والی امریکی کانفرنس ناکامی کی جانبگامزن ہے۔ منگل کے روز شروع ہونے والی اس کانفرنس میں اس طرح کی سرگرمی اور تیزی دیکھنے میں نہیں آئی، جتنا شور مچایا گیا۔ تاہم تاریخی مسئلہ فلسطین اور محروم فلسطینیوں کے حقوق کی جنگ کے حوالے سے یہ بہرحال ایک سازش ہے۔ یہ کانفرنس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کی سربراہی میں منعقد کی گئی ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کے لیے نئے امریکی منصوبے ’’صدی کا معاہدہ‘‘ کا انجینئر کہا جاتا ہے۔ کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کشنر نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان قیام امن کے لیے واشنگٹن مناسب راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کشنر نے مزید کہ یہ کانفرنس صرف ’’صدی کا معاہدہ‘‘ نہیں، بلکہ صدی کا موقع ہے۔ کشنر نے یہ بھی کہا کہ امن اسی وقت ممکن ہے جب قوموں میں خوشحالی یقینی بنائی جائے۔ کشنر کا اشارہ اس کانفرنس کے اصل مقصد یعنی فلسطین کی سودے بازی کی جانب تھا۔ اس کانفرنس میں عرب ممالک کے ساتھ دیگر ممالک، عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق عالمی ڈونر اور سرمایہ کار خطے کے لیے 50ارب ڈالر کی امداد اور سرمایہ کاری مہیا کریں گے۔ اس رقم میں سے 28ارب ڈالر مغربی کنارے اور غزہ، ساڑھے 7 ارب ڈالر اردن، 9ارب ڈالر مصر اور 6 ارب ڈالر لبنان کے لیے مختص ہوں گے۔ اس پروگرام میں 179منصوبے شامل ہیں، جن میں 5ارب ڈالر کی خطیر رقم سے مغربی کنارے اور غزہ کو ملانے کا منصوبہ بھی ہے۔ تاہم فلسطینی قوم اس منصوبے اور کانفرنس کو اپنی سرزمین اور حقوق کی سودے بازی قرار دے کر مسترد کرچکی ہے۔ اس کانفرنس کے شروع ہونے سے قبل ہی فلسطین بھر میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس دوران مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور غزہ کی سرحد پر احتجاج کیا گیا۔ قابض صہیونی فوج نے مظاہرین پر آنسوگیس اور گولیاں برسائیں، جب کہ مغربی کنارے میں کئی فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر ہمسایہ ممالک اردن اور لبنان میں بھی فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور امریکی سازش کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
غزہ: سرحد پر دیوار کی تعمیر شروع بجلی گھر کو ایندھن کی ترسیل بند
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر تعینات انجینئرنگ بریگیڈ اور سدرن کمانڈ نے اتوار کے روز غزہ کی سرحد پر ایک نئی دیوار کی تعمیر شروع کی ہے۔ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق نئی دیوار غزہ کے اطراف موجود یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کے کورنیٹ راکٹوں سے تحفظ فراہم کرے گی۔ دیوار کی لمبائی 900 میٹر ہے جو شاہراہ عام 34 کے ساتھ تعمیر کی جائے گی۔ دوسری جانب صہیونی ریاست نے غزہ کی پٹی میں قائم واحد بجلی گھر کو ایندھن کی فراہمی روک دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ غزہ سے فلسطینی مزاحمت کار مسلسل آتش زنی کے لیے غبارے اسرائیل کی جانب چھوڑ رہے ہیں۔ غزہ کو ایندھن کی فراہمی کے ذمے دار اسرائیلی محکمے نے کہا کہ غزہ کے بجلی گھر کو فی الحال کوئی ایندھن مہیا نہیں کیا جائے گا۔