شام اور دیگر بحرانوں پر امریکا، روس اور اسرائیل کا اجلاس

56

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور روسی قومی سلامتی کے مشیر نیکولائے بٹروشیف اسرائیل کے دورے پرتل ابیب پہنچے، جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر مائیر بن شابات سے ملاقات کی۔ اسرائیلی عبرانی ریڈیو کے مطابق منگل کو امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن، ان کے روسی ہم منصب بٹروشیف اور اسرائیل کے بن شابات کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی ہوا، جس میں شام میں ایران کی موجودگی، امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کو جوہری بم تیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ تہران مسلسل ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکا خلیجی ممالک اور اسرائیل سمیت اپنے تمام اتحادی ممالک کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔ دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ خلیج بصرہ اور شام میں رونما ہونے والی صورت حال انتہائی خطرناک ہے۔لاروف نے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو، مصری وزیر ِ خارجہ سمیع شکری اور مصری وزیر دفاع محمد ذکی سے روسی دارالحکومت ماسکو میں ٹو پلس ٹو فارمیٹ پر مذاکرات کیے۔ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں لاروف نے امریکا اور اسرائیل کی ایران پر پابندیوں پر بات کی۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی، اسے تنہا کرنا اور بغیر تحقیقات کے کسی واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے اسے موردِ الزام ٹھہرانا اچھا فعل نہیں۔ یہ موقف ہر گز پائیدار نہیں۔ لاروف نے کہا کہ شامی سرزمین کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا میدان بنائے جانے کی کوششیں اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔