حکومت نے قرض کے بجائے ٹیکس کامشکل راستہ منتخب کیا

42

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے سستی شہرت کے لئے ٹیکس جمع کرنے کے بجائے قرضے لینے کا آسان راستہ اختیار کیا جبکہ موجودہ حکومت اس کے برخلاف مشکل راستہ اختیار کیا ہے۔ پاکستان نے چند دہائیاں قبل ترقیاتی منصوبوں کے لئے قرضے لینا شروع کئے جنکی بڑی مقدار ضائع ہونے سے ادائیگیوں کے توازن کے لئے قرضے لینا پڑے اور اب قرضے ادا کرنے کے لئے قرضے لئے جا رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت صورتحال بہتر بنانے کے لئے پراپرٹی مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرے کیونکہ یہ شعبہ کرپٹ عناصراور بلیک منی کی جنت بنا ہوا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی خرید و فروخت کے لئے بینک ٹرانزیکشن کو لازمی قرار دیا جائے جسکی تصدیق سرکاری سطح پرکی جائے۔ جائیداد کی خرید و فروخت میں کیش کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا جائے جبکہ گاڑیوں کی خرید و فروخت بھی صرف بینکوں کے زریعے ہی ممکن بنائی جائے۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں بھارت کی ناکامی اور پاکستان کی کامیابی کا کریڈٹ حکومت،پاکستانی وفد اور فارن آفس کی سرتوڑ کوششوں کو جاتا ہے۔ہمارے اعلیٰ حکام نے میٹنگ سے قبل بعض ایسے یورپی ممالک کو بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دینے پر رضامند کر لیا جنھوں نے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دینے کی بھارتی کوشش کی ناکامی حتمی نہیں ہے جبکہ پاکستان کے لئے صرف سفارتکاری کافی نہیں ہے ۔