چیچہ وطنی، ریجنل پولیس افسر ساہیوال نے پولیس لائنز میں دربار کا انعقاد

46

چیچہ وطنی (اے پی پی) ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال شارق کمال صدیقی نے پولیس لائنز میں پولیس دربار کا انعقاد کیا جس میں ڈی پی او اوکاڑہ اطہر اسماعیل،ڈی پی او ساہیوال کیپٹن (ر) محمد علی ضیا اورڈی پی او پاکپتن شریف عبادت نثار سمیت ریجن ہذا کے ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور تمام رینک کے ملازمین نے شرکت کی۔ دربار کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا ۔ ریجنل پولیس آفیسر ساہیوال شارق کمال صدیقی نے تمام ملازمین کو تنخواہ اور الائو نس میں اضافے پر مبارکباد دی اور اس سلسلے میں آئی جی پی پنجاب عارف نواز خاں کی کاوشوں پر تشکر کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی ویلفیئر کے لیے بے تحاشا کام ہورہا ہے۔ پولیس لائنز اور تھانوں کی حالت پہلے سے بہت بہتر ہے۔ تینوں پولیس لائنز میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا دیے گئے ہیں۔ ساہیوال میں جلد ہی فری ڈسپنسری کام شروع کر دے گی۔ انہوں نے شہدائے پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ہم شہدا کے خاندانوں کا خصوصی خیال رکھ رہے ہیں۔ڈی پی اوز خود ان کے گھروں میں جا کر ان کے مسائل حل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں 50فی صد تھانوں کی انسپکشن کرچکاہوں باقی بھی جلد کروں گا۔ تھانوں کا ماحول بہت اچھا ہو گیا ہے۔ ریجن میں پولیس کی گاڑیاں بھی پہلے سے بہتر حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھے اور دیانتدار پولیس افسروں کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ ایس ایچ اوکے طور پر اپنی صلاحیتیں دکھائیں۔انویسٹی گیشن پر خرچ ہونے والی رقوم تفتیشی افسران کو دی جارہی ہیں۔ صلاحیت کار بڑھانے کے لیے مختلف کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پولیس بھی عوام سے بہترین رویہ سے پیش آئیں، پولیس کا بہتر امیج پیش کریں اور عوام کی خدمت میں نمایاں بہتری لائیں۔ مثالی رویے سے پولیس کی عزت و وقار میں اضافہ لائیں۔انہوں نے کہا کہ تینوں اضلاع کے ڈی پی اوزبہتر کام کررہے ہیں۔ ڈی پی اوساہیوال کیپٹن (ر) محمد علی ضیا نے ملازمان کی ویلفیئر کے لیے ایجو کیشن سنٹر بنایا ہے۔ملازمین اور شہدا کے بچوں کے لیے پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں میں فیس میں رعایت کا معاہدہ کیا ہے۔ملازمین کے سفر کے لیے مختلف کمپنیوں سے ٹکٹ میں بھی رعایت حاصل کی گئی ہے۔ ڈرائیونگ سکول کام کررہا ہے۔ اشاروں کے ٹیسٹ کے لیے کمپیوٹر لیب قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز، بار اور میڈیا سے اچھے تعلقات استوار کیے جائیں۔انہوں نے ملازمین کے مسائل سن کر موقع پر احکامات جاری کیے۔ انہوں نے آخر میں پھر ملازمین کو ہدایت کی اپنی شخصیت کا اچھا پہلو عوام کو دکھائیں اور انہیں رویوں میں تبدیلی کا واضع احساس دلائیں۔