عزیر بلوچ کے بیان پر کسی کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا ہے،سعید غنی

128

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کے پاس جاکر انہیں سمجھائیں کہ وہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں کیونکہ یہ بجٹ منظور ہوا تو مہنگائی کا سونامی جو گزشتہ 11 ماہ سے اس ملک میں معاشی دہشتگردوں کی وجہ سے آیا ہے اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے قائدین، کارکنان اور ارکان اسمبلی کسی قسم کے ہتھکنڈوں اور دباؤ سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ہم تمام کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ عزیر بلوچ کے بیان پر اگر کسی شخص کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ پیر کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے تحت عوام دشمن بجٹ اور مہنگائی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس پر ہمارے قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ عزیر بلوچ کا جو بیان سامنے لایا گیا ہے وہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔اگر کہیں پیپلز پارٹی نے عزیر بلوچ کو استعمال کیا بھی ہے تو اس کا رابطہ اور چینل ذوالفقار مرزا کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا لیکن حیرت انگیز طور پر یہ رپورٹ کو جو پیپلز پارٹی کے خلاف پیش کی جارہی ہے اس میں ذوالفقار مرزا کے حوالے سے کچھ نہیں آیا۔ اس رپورٹ میں عزیر کے بیان میں کبھی شرجیل میمن تو کبھی فریال تالپور اور کبھی آصف زرداری کا نام لیا جاتا ہے کہی ذوالفقار مرزا کا نام نہیں ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ عزیر بلوچ کے بیان پر اگر کسی شخص کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا کے سوا اور کوئی نہیں ہے، عزیر بلوچ کو پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت پر دباؤ ڈالنے کی سازشیں ہوتی رہی ہیں اور ہو رہی ہیں لیکن ہم اس دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔