وزیراعظم کی ان کے باعث لفظ سلیکٹڈ پر پابندی لگائی گئی،بلاول

63

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی انا کے باعث قومی اسمبلی میں لفظ ’سلیکٹڈ‘ پر پابندی لگائی گئی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ دہرایا۔بلاول زرداری نے کہا ہے کہ نیا پاکستان سنسرڈ پاکستان ہے جو کہ ہمیں منظور نہیں۔ ہمیں قائد کا پاکستان لوٹایا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی میں سلیکٹڈ لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کی یہ انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہے منتخب کیا گیا۔ یہ کوئی غیر پارلیمانی لفظ نہیں۔ اگر حکومت اپوزیشن کرے گی اور اپوزیشن بھی اپوزیشن کرے گی تو حکمرانی کون کرے گا۔خوف اور عدم استحکام کسی بھی معیشت کی موت ہوتی ہیں۔ نیب گردی سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معیشت کو نقصان پہنچارہی ہے۔وفاق نے سندھ کے ہسپتال لینے تھے تو بجٹ میں کچھ پیسے بھی رکھتے۔(ن) لیگ کی آف شور کمپنی حرام اور پی ٹی آئی یا عمران خان کی آف شور کمپنی ہو تو وہ حلال ہے۔الطاف حسین کو غیرملکی فنڈنگ دی جائے تو وہ حرام۔پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈز ملے تو حلال ہے۔بلاول نے پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ دہرادیا۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول زرداری نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی تمام پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ عوام دشمن بجٹ واپس لے۔ نیا پاکستان واپس لے اور قائد کا پاکستان ہمیں واپس دے۔بلاول نے کہا کہ یہ ایوان پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔موجودہ بجٹ میں وزیراعظم اور صدر ہائوس کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے جبکہ پہلے وزیراعظم ہائوس کی بھینسیں فروخت کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پارلیمنٹ کا تقدس جانتے ہیں۔کچھ ارکان اسمبلی کوپارلیمنٹ کے تقدس کاعلم نہیں۔ پارلیمنٹ میں معاشی مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ میری غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی میں سلیکٹڈ لفظ کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، یہ انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہے منتخب کیا گیا، یہ کوئی غیر پارلیمانی لفظ نہیں لیکن آپ کی مرضی۔بلاول نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی انا کی وجہ سے قومی اسمبلی میں میرے لفظ پر پابندی عائد کردی لیکن یہ تاریخی سینسرشپ ہے، یہ کس قسم کی آزادی ہے کہ اراکین قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کے فلور پر آزاد نہیں ہیں۔ بول نہیں سکتے۔انہوں نے کہا تھا آپ کا اختیار ہے کسی بھی لفظ کو حذف کرسکتے ہیں لیکن حکومت کا کوئی لفظ حذف نہیں کیا جاتا۔ کسی لفظ پر پابندی عائد نہیں کی جاتی۔ اپوزیشن کے ہر دوسرے لفظ کو حذف کرنا بھی سینسر شپ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان سنسرڈ پاکستان ہے جو ہمارے لیے نامنظور ہے۔ جو بھی سمجھتا ہے کہ سنسر شپ سے ماحول بہتر ہوگا میں انہیں سمجھانا چاہتاہوں کہ آپ صرف آگ پر مزید تیل ڈال رہے ہیں۔بلاول زرداری نے کہا کہ غریب کے لیے ٹیکسز کا طوفان، مہنگائی کی سونامی اور بے روزگاری جبکہ چور اور ڈاکوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آج بھی ہم معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں تو امیروں کو ایمنسٹی اسکیم دیتے ہیں اور اپنے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کا معاشی قتل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دوغلا نظام نہیں چلے گا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ امیروں کے لیے ریلیف ہو اور غریبوں کے لیے بوجھ۔ ن لیگ کی آف شور کمپنی حرام اور پی ٹی آئی یا عمران خان کی آف شور کمپنی ہو تو وہ حلال ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ الطاف حسین کو غیرملکی فنڈنگ دی جائے تو وہ حرام ہے اور پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈز ملے تو حلال ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم عوام دشمن بجٹ نہیں برداشت کرسکتے۔ عوام کا معاشی قتل نہیں برداشت نہیں کرسکتے۔ اپنے ہی ملک کی معاشی خودکشی نہیں دیکھ سکتے۔ ہم پاکستان کے عوام کو اس نئے پاکستان کے عذاب سے بچائیں گے اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔بلاول نے کہا کہ وزرا کے غیر سنجیدہ رویے پر قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ بلاول نے پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم)کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ دہرایا۔