اخبارات کی اہمیت کم نہیں ہوئی نئی اشتہاری پالیسی لارہے ہیں،فردوس عاشق

61
اسلام آباد: مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کررہی ہیں
اسلام آباد: مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان شنگھائی تعاون تنظیم سمٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کررہی ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز) معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اخبارات کی اہمیت کم نہیں ہوئی‘ نئی اشتہاری پالیسی لارہے ہیں‘ منفی خبروں کا تدارک کرنا ہوگا، میڈیا مالکان کو معاشی آزادی دینا چاہتے ہیں تاکہ ورکرز کو وقت پر تنخواہیں ملیں۔شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ارکان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، بدعنوانی کے خاتمہ کیلیے جامع فریم ورک تیار کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای )کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سی پی این ای کے صدر عارف نظامی و دیگر ارکان کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہتی ہوں، میں سمجھتی ہوں کہ اقتدار کے اس صوفے میں ان کی آمد سے اسلام آباد کو مزید تقویت ملے گی اس سے پہلے پریس کو خطرہ سمجھا جاتا تھا وزیراعظم کو آپ کا پیغام پہنچایا ہے کہ آپ ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ حکومتی ترجمان اس وقت تک مکمل فعال نہیں ہو سکتا جب تک وہ میڈیا کا ترجمان نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں اشتہار مخصوص لوگوں نے اپنی خودنمائی کے لیے جاری کیے اس کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم تمام بقایاجات دیں گے،میڈیا کے تمام جائز مطالبات پورے کرنا ہمارا ویژن ہے۔ اب کارکردگی کی بنیاد پر ان کو کاروبار ملے گا ذاتی مفاد پر کسی کو کاروبار نہیں دیا جائے گا۔ایسی پالیسی بنا رہے ہیں کہ میڈیا مالکان کو معاشی آزادی دینا چاہتے ہیں تاکہ میڈیا ورکر ان کے چنگل سے آزاد ہوسکیں،میڈیا ورکرز کو وقت پر تنخواہیں ملیں اور نظام میں توازن پیدا ہو۔ مالکان اور ورکر کا رشتہ مضبوط کرنے میں تعاون کریں گے۔ حکومت نئی میڈیا اشتہاری پالیسی لارہی ہے تاکہ اسے دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ پالیسی کی تیاری کے حوالے سے تمام فریقین سے مشاورت کی جائے گی۔ نئی اشتہاری پالیسی اگلے ماہ کے دوسرے ہفتے میں کابینہ کے سامنے پیش کریں گے اشتہاری ایجنسیوں کے کردار میں تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔ پاکستان میں منفی اور جعلی خبروں کا بھی تدارک کرنا ہو گا، پرنٹ میڈیا کی اہمیت ختم نہیں ہوئی اس کا اہم اور مضبوط رول ہے۔ وقت کے ساتھ آج سوشل میڈیا بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، اپنی نئی اشتہاری پالیسی میں سوشل میڈیا کو بھی حصہ بنا رہے ہیں تاکہ ان کو بھی آنر شپ ملے۔ صدر سی پی این ای عارف نظامی نے کہاکہ نئے وزیر اطلاعات آنے کے بعد مسائل حل کی طرف جارہے ہیں، ملک میں نجی اور سرکاری شعبہ اقتصادی بحران کا شکار ہے اس کے اثرات پریس پر بھی پڑ رہے ہیں۔ پی آئی او طاہرخوشنود نے کہاکہ اشتہارات کے عمل کو کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں، اس موقع پر سی پی این ای کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشتہاری کمپنیوںکا بھی احتساب کیا جائے۔ اشتہاری ایجنسیاں حکومت سے واجبات حاصل کرنے کے باوجود اخبارات کو ادائیگیاں نہیں کررہیں یہ بڑا مسئلہ ہے۔ ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ویج بورڈ کو ختم کردیا جائے یہ آزادی صحافت پر قدغن کے مترادف ہے۔ علاوہ ازیں پیر کو یہاں بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس 2019ء کے بعد حاصل ہونے والے تجربات اور اس پر پیشرفت سے متعلق مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں پاکستان کی شراکت داری کو اجاگر کرنا ہے جس میں رواں ماہ کے آغاز پر وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کرغیزستان سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام ارکان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، پاکستان نے ہمیشہ امن کی حمایت کی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، پاکستان نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پرعزم ہے، پاکستان جنوبی ایشیا میں بالخصوص ناخواندگی، غربت، خوراک کی کمی اور بیماریوں جیسی برائیوں کے خاتمہ کا خواہاں ہے، صحت اور انسانی شعبوں میں تعاون اور تحفظ خوراک کے فروغ کے ذریعے شہریوں کی روزمرہ زندگی سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے، بدعنوانی اور وائٹ کالر کرائم کے خاتمہ کے لیے جامع فریم ورک تیار کیا جائے۔