کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس ختم کیا جائے ، محمد حسین محنتی

113

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیروسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک جو قرض لیا گیا ہے اس کا مکمل جائزہ لیا جائے، آئندہ قرض نہ لینے، سودی معیشت کے خاتمے کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی غلامی اختیار کرنے میں ہی تمام مسائل کا حل مضمرہے۔ ایک طرف ریاست مدینہ طرز کی حکمرانی کے دعوے تودوسری طرف سودی نظام معیشت، مہنگائی کا طوفان اور قادیانی نواز پالیسیاں کھلا تضاد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا و دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں گزشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اورآئندہ کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔ صوبائی امیر نے میڈیا سیل کے ذمے دار حسن راشد کے والد عبدالحمید قرنی کی وفات پر ان کے گھر جاکر تعزیت، مرحوم کی مغفرت، بلند درجات کی دعا کی۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ ہر سال ہر حکومت میںبجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اپنے وعدوں کے بر عکس صرف 11 ماہ میں قرضے اور مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں و کرپشن کا خمیازہ عوام پر مختلف ٹیکس لگا کر ان کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر کیا جاتا ہے جو کہ ظلم و نا انصافیوںکے مارے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے دن سے اصلاح معاشرہ، دیانتدار قیادت اور کرپشن فری پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں 30 جون کو سہراب گوٹھ تا مزار قائد عوامی مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جماعت اسلامی کسی چور کو بچانے یا سابق حکمرانوں کو سہارا دینے نہیں بلکہ مہنگائی کے خاتمے سمیت دیگر عوامی مسائل کے حل اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ ملک آج جن بحرانوں سے دوچارہے اس کی ذمے داری باری باری اقتدار پر قابض ہونے والی سابق حکمراں جماعتوں پر ہے۔ صوبائی امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ اچھے کاموں پر حکومت کی تحسین اور خراب کارکردگی پر اصلاح کی خاطر ان پر تنقید بھی کرتی رہے گی۔ حکومت کی نیت پرکوئی شک نہیں ہے مگر پالیسیاں اور ٹیم سابقہ حکومتوں والی ہے جس پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔