کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ تین بڑے دہشت گرد مارنے کا دعویٰ

76

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نادرن بائی پاس کے قریب مبینہ مقابلے میں3ملزمان مارے گئے ،پولیس کے مطابق مارے گئے افراد میں القاعدہ کراچی کاامیر بھی شامل ہے ،مبینہ مقابلے میں پویس و حساس اداروں نے حصہ لیا،ایک گھنٹے جاری رہنے والے مقابلے میںکوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا،پولیس کی جانب سے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنانے کابھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح حساس ادارے نے سائٹ سپرہائی وے انڈسٹریل ایریا پولیس کے ساتھ ناردرن بائی پاس خدا بخش بروہی گوٹھ میں کچھ ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی،جس پر ملزمان نے پولیس اور حساس ادارے کے اہلکاروں پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کردی،جوابی فائرنگ کے نتیجے میں3افراد مارے گئے، سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے بعد2کلاشنکوف ، ایک ٹی ٹی پستول،4دستی بم اور ایک خودکش جیکٹ برآمد کرلی۔مارے جانے والوں کی لاشوں کو پولیس کارروائی کے لیے تحویل میں لے کر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق 2ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کراچی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، طلعت محمود عرف یوسف کا ریکارڈ جمع کرلیا گیا ہے جوالقاعدہ سندھ سیٹ اپ کا امیر تھا جب کہ مارے جانے والے دیگر 2ملزمان میں عثمان نور عالم اور شیخ شاہدشامل ہیں۔دریں اثنابم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی جائے وقوعہ کادورہ کیا۔بی ڈی ایس انچارج عابد شاہ کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ملنے والی خودکش جیکٹ میں10کلوبارود تھا،دستی ، ڈیٹونیٹر ایمونیشن اور بارود تیارکرنے کاسامان بڑی تباہی مچاسکتاتھا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق فائرنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی،دہشت گردوں کاٹھکانہ ڈیڑھ ماہ سے خالی تھا،پہلے کچھ افراد مکان میں بیٹھ کرپراپرٹی کاکام کرتے تھے۔دہشت گردوں کے ٹھکانے سے دیگر شواہد تحویل میں لے کرمکان کوسیل کردیا گیاہے۔