ڈیم فنڈ کے پیسے کس اکائونٹ میں رکھے گئے ہیں،تحقیقات کی جائیں ،خورشید شاہ

186

اسلام آباد(نمائندہ جسارت ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کریں کہ ڈیم فنڈ کے پیسے کس اکاؤنٹ میں رکھے گئے۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ہم نے ڈیم، ڈیم کرکے ڈیم کو سیاست بنادیا۔ ہمارے چیف جسٹس میدان میں نکل آئے کہ ڈیم بنائیں ملک بچائیں، بالکل بنائیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان میں ڈیم نہ بنا کر مجرمانہ غفلت ہوئی ہے۔ کیوں نہیں بنا ڈیم کس لیے نہیں بنا اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں جاننے کے لیے تیار ہیں لیکن ہمیں روکا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیم کا قصہ چلا، اشتہار چلائے گئے اور اب بھی چل رہے ہیں کہ چندہ دو، کتنا پیسہ ملا، لندن گئے وہاں کیا حشر ہوا کہ ڈیم بنے گا۔رہنما پی پی پی نے کہا کہ میں نے اس وقت کے چیف جسٹس سے کہا تھا کہ اگر آپ سنجیدہ ہیں تو حکومت کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ بجٹ، منی بجٹ اجلاس کریں اور پی ایس ڈی پی پر ڈیم کے لیے جی ڈی پی کا 15 فیصد رکھ دیں تو ڈیم بنے گا۔خورشید شاہ نے کہا کہ 10 ارب روپے جمع کیے گئے 11 ارب روپے اشتہارات میں خرچ ہوگئے۔ تحقیقات کریں کہ ڈیم فنڈ کے پیسے کس اکاؤنٹ میں رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ ڈیم بننا چاہیے اگر آج بھی ڈیم پر 15 فیصد رکھتے ہیں تو ڈیم بن سکتا ہے کیونکہ ہماری ضرورت ہے۔ یہ پی ٹی آئی کا فیصلہ نہیں، عوام کا اس پارلیمنٹ کا فیصلہ ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی پر 15 فیصد رکھ کر ڈیم بننے میں 10 سال لگیں گے۔خورشیدشاہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کاحق ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں اس کی مخالفت کرے۔ آپ کو بنا بنایا پاکستان ملاہے ، عوام میں خوشحالی نظر آرہی ہے تواس کا کریڈٹ پی پی کو جاتا ہے۔حکومت جیسابھی بجٹ پیش کرتی ہے اپوزیشن تسلیم نہیں کرتی۔صوبائیت کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فیڈریشن کے لیے خطرہ ہوگا۔آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے ایک ہی راستہ زراعت ہے۔بجٹ میں ہیلتھ کے لیے رقم کم کریں ایجوکیشن پربڑھائیں توبات سمجھ آئے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا اس ملک کاسب سے بڑا مسئلہ آبادی ہے ، آبادی تعلیم،صحت اورماحول پراثرکرتی ہے۔ آج مہنگائی نے جوحالت کی ہے وہ کسی کی برداشت میں نہیں، حکومت نے جو کمٹمنٹ کی تھی ایک فیصد بھی پوری نہیں کی۔خورشیدشاہ کا کہنا تھا آئین کوڈکٹیٹرنے تباہ کیاتھاہم نے آئین کوبحال کیا۔ اکنامک ایکٹویٹی بڑھاناچاہتے ہیں تو100،200ارب دیناہوں گے۔ ہم کسان کی طرف خوشحالی لے گئے۔غریب خوشحال تھے زراعت کوبڑھائیں توکسی سے قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے ایک ہی راستہ زراعت ہے۔