تعلیمی بجٹ میں کمی پر جمعیت کا احتجاجی کیمپ‘ لیاقت بلوچ کا دورہ

96

لاہور) نمائندہ جسارت )نائب امیر جماعت اسلامی و سیاسی و پارلیمانی انتخابی امور مجلس قائمہ کے صدر لیاقت بلوچ نے لاہور مال روڈ پر اسلامی جمعیت طلبہ کے قومی بجٹ میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی میں محض نو فیصد دینے اور تعلیمی ضروریات پر کٹوتیوں کے خلاف لگائے گئے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا بجٹ ان کی حکومت کا نہیں بلکہ امریکی حکم پر آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ۔یہ تعلیم ،صحت روز گار اور عوام دشمن بجٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمومی تعلیم پر 17فیصد اور ہائیر ایجوکیشن پر 50فیصد کٹوتی قوم کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے ،اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے اور حکومت کا یہ اقدام تعلیم میں پرائیویٹ سیکٹر کی بالا دستی قائم کرنے کا سبب بنے گی۔چینی ،گھی، تیل،بجلی ،خوردنی تیل اور کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب کو مارنے اور متوسط طبقہ کا کچومر نکال دے گا۔قرضے کرپشن اور سود قومی معیشت کیلیے ناسور ہیں ۔سود کا خاتمہ ،اسلام کامعاشی نظام اور خود انحصاری ہی بحرانوں سے نکلنے کا حل ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی و پارلیمانی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی 23جون کو مہنگائی ،بے روز گاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف فیصل آباد میں دوسرا بڑا عوامی مارچ کرے گی ۔صنعت و تجارت کے مرکز اور محنت کشوں کے شہر میں یہ احتجاج تاریخ ساز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے قومی بجٹ سیمینار میں معاشی ماہرین ،تاجر ،مزدور ،طلبہ ،کسان ،رئیل اسٹیٹ اور چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے متفقہ طور پر عوام دشمن بجٹ کو مسترد کردیا ہے ۔جماعت اسلامی ذاتی ،پارٹی یا گروہی مفادات کے تحفظ کی بجائے ۔عوامی ،قومی اور اسلامی ترجیحات کے مطابق عوامی احتجاج جاری رکھے گی۔انہوں نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی کے حوالہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے ،انہیں جماعت اسلامی کے اصولی موقف سے آگاہ کردیا جائے گا۔