ایران دہشتگرد جوہری ہتھیار بنائے تو حملہ کریں گے،امریکا

69

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکا، ایران سے نمٹنے کے لیے اچھی طرح سے تیار ہے اور ہم دیکھیں گے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر آپ دیکھیں کہ وہ (ایران) کیا کر رہے ہیں تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یقینا وہ ایک دہشت گرد ملک ہے، اور میں گزشتہ ہفتے کی بات نہیں بلکہ برسہا برس کی بات کر رہا ہوں۔ اس سے قبل ٹائمز میگزین میں شائع انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو جوہری بم کے حصول سے روکنے کے لیے فوجی اقدام کے لیے تیار ہیں۔ دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، تاہم امریکا ان تمام اقدامات کے لیے تیار ہے جو ایرانی جارحیت کے خلاف اختیار کرنے ضروری ہوں۔ انہوں نے یہ بیان منگل کے روز فلوریڈا میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے بعد کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں مزید فوجی بھیجنے کا مقصد تہران سے جنگ کی تیاری نہیں، بلکہ سیکورٹی اقدمات ہیں۔ امریکا کو اپنے مفادات پر ایران کے کسی بھی حملے کا جواب د ینے کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہیے۔ اُدھر سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کی جانب سے بریفنگ کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل سمندر میں طیارہ بردار بحری بیڑوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ بریگیڈئیر جنرل حسین سلامی نے منگل کے روز سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا کہ یہ میزائل سمندر میں طیارہ بردار بحری جہازوں کو بالکل درست نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ میزائل ملک ہی میں تیار کیے گئے ہیں اوران کا سراغ لگانا اور دوسرے میزائلوں سے نشانہ بنانا بہت مشکل ہے۔ علاوہ ازیں ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سابق ترجمان بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق 60 دن کی مہلت میں توسیع نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے عالمی جوہری معاہدے کے تحت طے پانے والی شرائط پر عمل کے لیے یورپی ممالک کو مہلت دے رکھی ہے، اور اسے اس کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں یورینیم افزودگی کا اعلان کر رکھا ہے۔ اُدھر جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط شواہد موجود ہیں جبکہ ایران اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتا ہے ۔