برطانیہ کا پاکستان کی ایکسپورٹ ایک ارب پائونڈ تک لے جانے کا اعلان

143
لندن: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے موقع پر مصافحہ کررہے ہیں
لندن: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے موقع پر مصافحہ کررہے ہیں

لندن(اے پی پی+مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین عوامی اور حکومتی سطح پر دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں، پاکستان کے ساتھ برآمدات کے حجم کو 400 ملین سے بڑھا کر ایک ارب پائونڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کو پاکستانی ہم منصب مخدوم شاہ محمود قریشی کیساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی لندن تشریف لائے، ہم نے پاکستان اور برطانیہ کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین عوامی سطح پر اور حکومتی سطح پر دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں، ہمارے درمیان دو طرفہ تجارت ، عالمی امور پر تعاون،علاقائی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور غربت کے خاتمے کے حوالے سے انتہائی مفید گفتگو ہوئی۔ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی ہورہی ہے کہ برطانوی وزیر برائے عالمی تجارت نے پاکستان کے ساتھ برآمدات کے حجم کو 400 ملین سے بڑھا کر ایک ارب پائونڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے برٹش ائر ویز کے اسلام آباد سے لندن براہ راست فلائٹ آپریشن کی بحالی کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے،یہ دونوں ممالک کے لیے اچھا شگون ہو گا، پاکستان اور برطانیہ کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں،آج ہم نے اسی تعلق کا اعادہ کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ مجھے پاکستانی ہم منصب سے مل کر بہت خوشی ہوئی،اس سے قبل بھی ہماری مختلف مواقعوں پر ملاقات اور تبادلہ خیال ہوا،ہمارے درمیان اور دونوں ممالک کے مابین بہترین تعلقات ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں سب سے پہلے برطانوی وزیر خارجہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکالا، ہماری ملاقات میں بہت سے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا،جن میں علاقائی امور،افغان امن عمل شامل ہیں۔پلواما واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی سے نمٹنے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت نے جو اقدامات کیے اس کے حوالے سے بھی میں نے برطانوی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے انسداد دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور ایف اے ٹی ایف کے تحت کیے گئے اقدامات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی،پاک برطانیہ دو طرفہ تجزیاتی مذاکرات جو کہ 2018ء میں ہونے تھے اور بعض وجوہات کی بنا پر نہیں ہوسکے ان پر بھی گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین اقتصادی اور تجارتی تعاون دو طرفہ تعلقات کی نوعیت سے مطابقت نہیں رکھتا اسے بڑھانا چاہیے ،ہمارے درمیان سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے بہترین مواقع موجود ہیں، پاکستانیوں کی کثیر تعداد برطانیہ میں مقیم ہے جو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، ثقافتی تعلقات کے فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سیکرٹری داخلہ سے ملاقات ہوئی،ویزاایشو،منی لانڈرنگ سمیت بہت سے معاملات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔