عمران پارلیمنٹ میں بھی کنٹینر والی سیاست کررہے ہیں،امیر العظیم

94

راولپنڈی (نمائندہ جسارت) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم نے کہاہے کہ تحریک انصا ف کی حکومت جس شاخ پربیٹھی ہے اسے ہی کاٹ رہی ہے،عمران خان حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ کے اندرکنٹینر والی سیاست کررہے ہیں کبھی حکومتی ارکان، اسمبلی کی کارروائی میں رکاو ٹ نہیں ہوتے بلکہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ باہمی احترام سے اسمبلی کی کارروائی چلتی رہے لیکن اس کے برعکس قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی جمہوریت کے لیے خطرے کا باعث بن رہے ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہور سے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کااظہارانہوں نے راولپنڈی میں صدرنیشنل لیبرفیڈریشن شمس الرحمن سواتی اور امیرضلع راولپنڈی راجا محمدجواد کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔امیرالعظیم نے کہاکہ کپتان نے علی بابا کوجیل میں ڈال کر40 چوروں کواپنے ساتھ شامل کرلیا ، اس سے تبدیلی کیسے ممکن ہے عوامی مسائل کا حل اورملک کوبحران سے نکالنے کے لیے حکومت واپوزیشن سمیت ہراس کرپٹ اوربددیانت کااحتساب ضروری ہے جس نے ملکی خزانے کولوٹ کراپنے محلات اوربینک بیلنس بنائے ،قانونی یاغیرقانونی جن ذرائع سے بھی ملکی دولت بیرون ملک منتقل کی گئی اسے واپس لاناناگزیرہے اس کی واپسی کے بغیرمعاشی بحران کا حل ممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کس بات پراحتجاج کریں گی جوالزامات وہ تحریک انصاف پرلگاتی ہیں اپنے دورحکومت میں وہ سب اقدامات انہوں نے خود کیے ہیںجبکہ تحریک انصاف توپی پی ،ن لیگ او رمشرف لیگ کا نیا ورژن ہے وہ احتساب کی بات توکرتے ہیں لیکن جن کااحتساب ہونا ہے وہ کابینہ کا حصہ بھی ہیں ۔ امیرالعظیم نے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے کوبجٹ کا نا م دیا گیا لیکن حقیقت میں وہ آئی ایم ایف کے ٹیکسوں کاانسائیکلوپیڈیا ہے ۔حکومت نے مہنگائی کا جن قابو کرنے کے بجائے ہردن نئے ٹیکس لگائے اوراب بجٹ کی صورت آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق عوام کے گلے میں ڈالا جارہاہے جوکسی طوربھی قابل قبول نہیں، جماعت اسلامی نے لاہورسے عوامی احتجاج کا آغازکردیاہے اب ہربڑے شہرمیں احتجاجی مارچ ہوں گے ،ہم عوام کو ظالموں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑ سکتے۔امیرالعظیم نے کہاکہ پاکستان میں کبھی الیکشن شفاف نہیں ہوئے ہمیشہ پیسے والے الیکشن کوخریدلیتے ہیں ہیلی کاپٹراورموٹرسائیکل والے کا مقابلہ کیسے ممکن ہے، ایک طرف امیدوارچند لاکھ خرچ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب سرمایہ داراور جاگیرداراپنے کروڑوں اوراربوں خرچ کرکے قوانین کی دھجیاں بکھیررہاہوتا ہے اس پر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی کاکرداراداکرتا ہے ، اگرسرمایہ لگا کرجیتنے والا عوام کی خدمت کرے پھربھی ہمیں اعتراض نہیں لیکن وہ توانویسٹ کرکے منافع کمانے کے لیے اپنی تمام ترصلاحیتیں استعمال کرکے کرپشن اور لوٹ مارکانیابازارگرم کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ طرزانتخاب میں بڑی تعداد میں ووٹ ضائع ہوتے ہیں دنیا کے بیشتر ممالک متناسب نمائندگی کی طرف جاچکے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت سمیت چند ممالک اس فرسودہ طرزانتخاب کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں متناسب نمائندگی کے قیام سے انتخابی عمل کی شفافیت میں اضافہ ہوگا۔