بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے یوٹیوب پروگرام بند کرادیے

91

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) کشمیری حریت پسند رہنما برہان وانی شہید اور دختران ملت کی رہنما آسیہ اندرابی کے مشن کو فروغ دینے کیلیے کشمیری حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کا ڈیجیٹل میڈیا پر پرچار کرنے کیلیے کشمیر انتفادا ویب سائٹ اور گیم سے بھارت سرکار بوکھلا اٹھی اور حکومتی سطح پر کوشش کرکے دی ڈیجیٹل انٹیلی جنس نامی کمپنی کے بینر تلے لانچ ہونے والی کشمیر انتفادا کے نام سے گیم اور ویب سائٹ بند کرادی، جس کے روح رواں ڈاکٹر عمیر ہارون ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے بھارت کو اس ڈیجیٹل پروگرام سے کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو مزید تقویت ملنے کاخطرہ محسوس ہوا تو بھارتی حکومت نے یوٹیوب کی انتظامیہ کو ایک سرکاری شکایت درج کرائی کہ کشمیر انتفادا ڈیجیٹل میڈیا پروگرام سے بھارت کیلیے خطرناک صورتحال جنم لے رہی ہے، اس لیے اس پروگرام کو فوری طور پر بند کردیا جائے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگرچہ بھارتی سرکار کشمیر انتفادا ڈیجیٹل پروگرام کو یوٹیوب پر بند کرانے میں وقتی طور پر کامیاب ہوگئی ہے مگر بھارت سرکار کے اس اقدام سے بھارت کا مکروہ چہرہ بھی مزید بے نقاب ہوگیا ہے اور پوری دنیا کو علم ہوگیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت میں کس طرح انسانوں سے آزادی اظہار کا حق بھی سلب کیا جارہا ہے۔ کشمیر انفادا پلیٹ فارم اور گیم کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم، آزادی کی جدوجہد کرنے والی تنظیموں کی کاوشوں، ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی، اجیت دوول کے آئی ایس آئی ایس کی جانب سے کشمیر میں قدم جمانے کیلیے کی جانے والی مکارانہ سازشوں کو بے نقاب کرنا، کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و تشدد کے مختلف طریقوں کو دنیا کے سامنے لانا اور کشمیری جدوجہد آزادی میں خواتین کے مردوں کے شانہ بشانہ کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ گیم مختلف موبائل کے علاوہ ڈیسک ٹاپ پر بھی کھیلا جارہا تھا۔ جس کے ذریعے ویب سائٹ کے بلوگرزاور ولوگرز سیکشن پر کشمیری حریت پسندوں کے ہمدرد فنکار، صحافی، سیاستدان اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم کو بلوگ اور ولوگ کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا پر بے نقاب کر رہے تھے۔ ڈیجیٹل گیم کا سرکاری گانا بھی کشمیری اور بھارتی نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہو رہا تھا، کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرنے اور ڈیجیٹل محاذ پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلیے ایک ڈیجیٹل کمیونٹی کی تخلیق اور اس کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کی تڑپ کو فروغ مل رہا تھا اور یہ ڈیجیٹل سلسلہ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت کے نوجوانوں میں بھی مقبولیت حاصل کرتا چلا جا رہا تھا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں اس انقلابی سلسلے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے وحشیانہ ظلم وجارحیت بے نقاب ہو رہے تھے اور بھارتی تسلط سے آزادی کے طالب کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم سے انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیموں سمیت دنیا بھر کے زندہ ضمیر لوگوں کو بروقت آگاہ کیا جا رہا تھا۔