قا ل اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ

106

میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اْن کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود اْن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں۔ پھر کیا کریں گے یہ لوگ اْس روز جبکہ اِن کا رب اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اْن ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔ سارے مجرم اْس روز آگ دیکھیں گے اورسمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ (سورۃ الکہف:51تا 54)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ کر دی جائے‘‘۔ (ترمذی)
رسول کریم ؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملنے گیا تو اسے ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے۔ تمہاری دنیوی اور اُخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کرلیا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)