سینیٹ میں جوتے بھی چل گئے

184

یہ سلسلہ قومی اسمبلی تک محدود نہیں رہا۔ حکومت اور اپوزیشن قومی اسمبلی میں تو معاہدے پر پہنچ گئے لیکن عمران خان اور اپوزیشن نے جو آگ لگائی ہے اپنے اپنے لوگوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے اور شور کرنے کی جو ہدایات دی تھیں ان کا نتیجہ بدھ کے روز سینیٹ میں سامنے آگیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ واقعہ بھی پیش آگیا کہ سینیٹ میں گالیوں سے بڑھ کر لاتوں اور جوتوں کا استعمال بھی ہوگیا۔ یہ سب اسی لیے ہوا کہ ان لوگوں نے کسی کے اشارے پر ماحول کو گرمانے کی ہدایات دی تھیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ گرما گرمی بجٹ میں عوام دشمن اقدامات کے خلاف نہیں تھی۔ قومی اسمبلی میں حکومت نے اپنے لیڈر کی تقریر محفوظ بنا لی اور اپوزیشن نے اپنے لیڈر کی۔ لیکن دونوں کی حماقت سے جمہوریت اور اسمبلیوں کے بارے میں جمہوریت دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت ملے گی۔ سینیٹ میں پہلی مرتبہ سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کرلیا گیا۔ اس صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو حقیقی جمہوری قوتوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے کہ آج سارجنٹ ایٹ آرمز طلب کرنے پر سینیٹ میں آئے۔ لیکن جب یہ سارجنٹ اسلام آباد میں حرکت میں آئیں گے تو پوری بساط لپیٹ دی جائے گی۔ کہیں نہ کہیں سے تو ڈوریں ہلائی جارہی ہیں جس کی ڈوریں جن کے ہاتھ میں ہیں اور جتنی کسی ہوئی ہیں اتنا ہی وہ مستعد ہے۔ وزیراعظم نے پتھر مارنے کی جو ہدایات اپنے لوگوںکو دی ہیں ان پر عمل سامنے آرہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ منگل کو اپنے بلیغ خطاب میں کہا تھا کہ احتجاج میں عوام کی زندگی میں خلل پڑا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ لیکن اسلام آباد میں 126 دن کے دھرنے میں جب قانون حرکت میں آیا تو تحریک انصاف نے قانون کے نمائندے ہی کو پیٹ ڈالا۔