مالی حالت خراب ہے ،بلدیہ کا بجٹ بنانا مشکل ہوگیا،میئر کراچی

73

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا آئندہ مالی سال کا میزانیہ ترتیب دینے میں مشکلات ہیں، حکومت نے ضلعی ترقیاتی پروگرام میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1600 ملین روپے کم مختص کیے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے میزانیہ میں مختص اے ڈی پی کا چوتھا کوارٹر نہ ملنے سے 135 ترقیاتی منصوبے اس سال مکمل ہونے سے رہ گئے۔ جاری منصوبوں کو مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہے تو نئے منصوبے کیسے شروع کیے جا سکتے ہیں۔اس صورتحال میں شہر کی ترقی کا عمل بری طرح متاثر ہو گا۔اسپتالوں کے ساتھ رہائشی فلیٹوں سمیت کے ایم سی کے تمام رہائشی کوارٹرز کے لیے علیحدہ میٹر نصب کیے جائیں‘بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ کسی رہائشی کوارٹر کا بجلی کا بل ادا نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کمیٹی روم میں آئندہ مالی سال کے میزانیہ کی تجاویز پر غور کرنے کے لیے منعقد محکمہ جاتی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر سید ارشد حسن، میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن ، مشیر مالیات ریاض کھتری اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فنانس سمیت تمام محکمہ جاتی سربراہان موجود تھے۔ چیف انجینئر کے الیکٹرک انیس قائم خانی نے اجلاس کو بتایا کہ رہائشی زون میں بجلی کا استعمال صحیح نہیں اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے‘ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کے غیر قانونی استعمال کی وجہ سے کے ایم سی کو کروڑوں روپے ماہانہ اضافی بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ وسیم اخترنے کہا کہ کوشش کی جائے کہ آئندہ مالی سال کے میزانیے میں جو منصوبے شامل ہوں وہ انتہائی ضروری اور ان سے شہریوں کو فوری سہولت میسر آئے، شہر کا پورا انفرااسٹرکچر ہی تباہ ہو چکا ہے جس کی بحالی کے لیے اربوں روپے کے بڑے پیکیج کی ضرورت ہے تاہم شہریوں کو فوری سہولت فراہم کرنے کے لیے ہم سے جو ممکن ہوسکا وہ کریں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہم نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام غیر ضروری اخراجات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی ہے اور اب اس رقم کو شہر کے مسائل حل کرنے پر خرچ کریں گے۔ اسپتالوں کی صورت حال کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔