پاک سرزمین پارٹی نے صوبائی بجٹ مسترد کردیا

58

کراچی ( اسٹاف ر پورٹر)پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت کا پیش کردہ بجٹ مسترد کر دیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر ارشد وہرا نے اس موقع پر کہا کہ سندھ حکومت نے مسلسل بارہویں مرتبہ 1217 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں ایک مرتبہ پھر سندھ کے شہری علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ریٹنگ ایجنسیز کے مطابق کراچی نا صرف پاکستان بلکہ ایشیاکے بدترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے، حکومتی اہلکار کرپشن میں ملوث ہیں جسکی وجہ سے انکے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ 2008 ء میں شروع کیے گئے منصوبے تاحال نامکمل ہیں۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی میڈیا کمیٹی کے ارکان شمشاد صدیقی، آسیہ اسحاق، سابق اراکینِ اسمبلی ڈاکٹر ارشد وہرا، سید حفیظ الدین، محمود عبدالرزاق، شیراز وحید، ارتضیٰ فاروقی، بلقیس مختار، نائلہ منیر، فوزیہ حمید اور سمیتا افضال بھی انکے ہمراہ موجود تھیں۔ پاک سرزمین پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ صرف تین جامعات میں کیمپس کا اضافہ کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کراچی، حیدرآباد میرپور خاص، نواب شاہ، سکھر و دیگر اضلاع میں نئی جامعات کا قیام فی الفور عمل میں لایا جائے۔ ڈاکٹر ارشد وہرا نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ کی عدم موجودگی میں صوبے میں جرائم کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 3700 پولیس اہلکار بغیر کسی اصول و ضوابط کے بھرتی کیے گئے، 4500 ابھی بھی منتظر ہیں جبکہ 3000 مزید بھرتی کرنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے ۔سندھ کی زبوں حالی پر مراد علی شاہ کو فوری مستعفی ہو جانا چاہیے۔