سعودی ولی عہد خاشق جی کے قتل میں ملوث ہیںِ،اقوام متحدہ

178

نیویارک/ریاض ( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوامِ متحدہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ودیگر سینئر سعودی عہدیداروں کو صحافی جمال خاشق جی کے قتل میں ملوث قرار دے دیا ہے۔خاشق جی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے تیارکی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں سعودی ولی عہد کو بھی اس قتل کے مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے قابل بھروسہ شواہد سامنے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ سعودی اہلکار اپنی انفرادی حیثیت میں جمال خاشق جی کے قتل کے ذمے دار ہیں۔خصوصی تحقیقاتی افسر اگنیس کیلامارڈ کے مطابق ان شواہد کوسامنے رکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار عالمی تحقیقات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ سعودی عرب میں جس انداز سے چلایا جا رہا ہے وہ کسی بھی طور پر عالمی معیار پر پورا نہیں اترتا ہے،اس کی کارروائی معطل کی جائے۔ انگیس کیلامارڈ نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے میں ملنے والیقابل بھروسہ شواہد یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ولی عہد سمیت سعودی حکام کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوںنے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد کو ہدف بنا کر ان پر پابندیاں عاید ہونی چاہیے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلامتیکونسل جمال خاشق جی قتل کے سلسلے میں فوجداری تحقیقات کے لیے مزید کارروائی کا اجرا کرے تاکہ اس میں ملوث ہر ملزم کے بارے میں بھرپور قسم کے مواد کے ساتھ کیس فائلیں تیار کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ سلامتیکونسل اس جرم کے احتساب کے لیے ٹربیونل جیسے فورمز کی بھی نشاندہی کرے جہاں مقدمے چل سکیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔سعودی وزیرِخارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ اس رپورٹ میں بے بنیاد الزامات ہیں اور متضاد باتیں ہیں جن کی وجہ یہ قابل اعتبار نہیں رہتی ہے۔