کے الیکٹرک کی لوڈمینجمنٹ کے نام پر شہر بھرمیں لوڈشیڈنگ

180

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) شہر میں گرمی کی شدت کے ساتھ “کے الیکٹرک ” نے لوڈشیڈنگ کو ” لوڈ مینجمنٹ ” کا نیا نام دے کر بجلی کی بندش کا سلسلہ پورے شہر تک وسیع کر دیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشن اور اسپتال بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ3 روز سے کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے بجائے لوڈشیڈنگ کو ان علاقوں تک پھیلادیا ہے جنہیں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ہوا تھا۔ لوڈشیڈنگ کا دائرہ بہادرآباد ،نارتھ ناظم آباد ، ناظم اباد ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ، فیڈرل بی ایریا ، پی ای سی ایچ سوسائٹی، ڈیفنس اور کلفٹن تک بڑھادیا ہے۔ کے الیکٹرک کے نرخوں میں اصافے کے باوجود ایک تا ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ لوگ مجبوراً یو پی ایس اور جنریٹر خریدنے لگے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی تنصیبات بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بند ہونے سے شہر کو پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ایم ڈی واٹربورڈ انجینئر اسداللہ خان کا کہنا ہے کہ واٹربورڈ کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر گزشتہ دنوں یکے بعد دیگرے بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث437ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث واٹربورڈ کا نظام فراہمی آب بری طرح متاثر ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک لوڈ مینجمنٹ کے نام پر دراصل لوڈشیدنگ ہی کر رہی ہے تاکہ اسے بجلی کی ڈسٹری بیوشن مد میں زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ کے الیکٹرک شہر کے متعدد علاقوں میں پہلے سے جاری لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھاچکی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہورہا ہے۔ عوام نے گورنر سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کو شہریوں کو ان کی ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا پابند کیا جائے ۔