دنیا کی سب سے اعلیٰ کھجور مانی جانے والی ”عجوہ“ کھجور کی پیداوار اب پاکستان میں بھی ہوگی۔

246

جھنگ میں لگائے گئے عجوہ کھجور کے درخت اب پھل دینے لگے ہیں، مقامی سطح پرعجوہ کھجور کی کاشت سے پاکستان میں یہ فائدہ مند کھجورکم قیمت پردستیاب ہوگی۔

ریسرچ انچارج محمد فیاض کا کہنا ہے کہ 3 سال قبل یہاں پر 17 پودے عجوہ کے لگائے تھے اور الحمد اللہ ان پر پھل پرآ چکا ہے۔ جتنی زیادہ عجوہ کی کاشت ہوگی اس کا معیشت پر بھی بڑا اثر پڑے گا۔ جو کھجور ہم 3 ہزار روپے کلو میں خرید رہے ہیں انشا اللہ ایک وقت آئے گا کہ یہی کھجور1500 روپے میں خریدی جاسکے گی۔

جھنگ کے ریسرچ فارم میں عجوہ، کلمہ، خلاص کے علاوہ دیگر 37 اقسام کی کھجوریں بھی کاشت کی گئی ہیں۔

پاکستان میں عجوہ کی کاشت سے کسان اور شہری بھی مسرور ہیں جن کا کہنا ہے کہ ہمیں بے حد خوشی ہے کہ جھنگ کے اس کھجور فارم میں ہمیں عجوہ کھجور میسر آئے گی۔ پہلے ہم یہ کھجور سعودی عرب عمرہ یا حج پر جانے والے عزیز واقارب سے منگواتے تھے۔

واضح رہے کہ دنیا کی اعلیٰ معیار کی کھجوریں اور سعودی عرب کی خاص سوغات عجوہ، امبر، خلاص، برہی اور مڈجول کی پیداوارکیلئے پنجاب حکومت نے 2017میں ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی تھی۔ فیصل آباد کے ا یوب زرعی تحقیقاتی ادارے میں تجربوں کی کامیابی کے بعد باقاعدہ کام کا آغاز کیا گیا تھا۔

ایک ارب چار کروڑ کے منصوبے کے لیے پنجاب حکومت نے فنڈنگ کی تھی۔ اس میں امپورٹ کر کے جنوبی پنجاب کے 9 اضلاع میں پودے لگائے تھے۔

پانچ سالہ منصوبہ کے تحت 367 ایکڑ پرپیدوار کیلئے اعلیٰ خواص کی کھجوروں کی پانچ اقسام کے مجموعی طور پر 36 ہزار پودے سعودی عرب سے درآمد کر کے کسانوں کو بلا معاوضہ فراہم کئے گئے تھے۔

زرعی ماہرین کھجوروں کے پودے لگانے سے ان کی بڑھوتری اور پھل تیار ہونے تک کے عمل کی مکمل نگرانی اور کسانوں کو رہنمائی فراہم کی گئی۔