صوبائی بجٹ میں کراچی کی معاشی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا، دانش خان

56

 

کراچی( اسٹاف رپورٹر)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر دانش خان، سینیئر نائب صدر فراز الرحمن اور نائب صدر ماہین سلمان نے کہا ہے کہ سندھ کے صوبائی بجٹ میں کراچی کے لیے مختص کی گئی رقم شہر کی معاشی اہمیت سے مطابقت نہیں رکھتی، صنعتی انفرااسٹرکچر اور شہر میں پانی کی قلت کے خاتمے سے متعلق واضح حکمت عملی نہیں دی گئی۔ صدر دانش خان کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر اوسطاً سالانہ دس ارب روپے صرف کیے گئے ہیں، جو کہ شہر کی معاشی اہمیت، آبادی اور ترقیاتی ضرورریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں قائم صنعتیں ملکی برآمدات کی 56فیصد سے زائد پیداوار کرتی ہیں اور مجموعی ریونیو میں کراچی کا حصہ نصف سے زائد ہے، ان حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو وفاقی و صوبائی سطح پر میگا سٹی مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ترقیاتی کاموں میں دل چسپی کا اظہار کیا اور صنعتی علاقوں میں انفرااسٹرکچر کی بہتری پر بھی توجہ دی، صنعتکاروں نے انکی کارکردگی کو ہمیشہ سراہا ہے، تاہم مجوزہ بجٹ میں ملک کے سب سے بڑے شہر کو ترجیحات میں اس کا درست مقام حاصل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ شہر ایس تھری، کے فور اور ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبوں میں تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبہ اور وفاق مل کر عوام کی بہتری اور معیشت کے استحکام کے لیے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے لائحہ عمل طے کرے۔دانش خان نے مزید کہا کہ شہر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق بھی صوبائی حکومت کی پالیسی میں ابہام پایا جاتا ہے اور بجٹ میں بھی اس حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیداواری لاگت کے بوجھ تلے دبے ہوئے صنعتی شعبے کے ریلیف کے لیے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔