مرسی اللہ کے سپرد

236

 

منیب حسین

بلادي وإنْ جارتْ عليّ عزیزۃ
وأھلي وإنْ ضنّوا عليّ کِرامُ
اگرچہ میرے وطن نے مجھ پر ظلم کیا، لیکن یہ پھر بھی مجھے پیارا ہے
میرے اپنوں نے اگرچہ میری ناقدری کی، لیکن وہ اب بھی میرے لیے محترم ہیں
فرعونِ وقت کے زنداں میں یہ آخری کلمات اُس شخص کے تھے،جو 2روز قبل اُمت کو داغِ مفارقت دے گیا۔ ایک ایسا عظیم انسان جس نے پوری زندگی اپنے دین، ملت اور قوم کے لیے وقف کی، تاہم اس کے ہم وطن مقتدر طبقے ہی نے اسے اسلام پسندی اور جمہوریت نوازی کے جرم میں سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا، اور مصر کی سیاہ تاریخ میں ایک اور باب کا اضافہ کردیا۔
یہ تاریخ ایک صدی پر مشتمل ہے۔ سلطنت عثمانیہ کی ماتحت ’’خدیوی حکومت‘‘ ختم کرکے قائم ہونے والی برطانیہ کی باج گزار’’سلطنت مصر‘‘ اور پھر ’’مملکت مصر‘‘ نے عوام کا استیصال کیا، تو وہاں کے باشندوں نے 3دہائیوں تک اپنے حقوق کی جدوجہد کی، تاہم ان کا یہ خواب اس وقت چکناچور ہوگیا، جب ملک کے ساتھ ’’جمہوریہ‘‘ کا سابقہ تو لگا، لیکن ساتھ ہی جنرل محمد نجیب نامی آمر ان پر مسلط ہوگیا۔ اس کے بعد آمریت کا ایسا سیاہ، قاتل اور خوف ناک دور چلا کہ 60برس تک جمال عبدالناصر، انور سادات اور حسنی مبارک کے روپ میں پے در پے آمر اقتدار پر قبضہ کرتے، اور وہاں کے عوام کی آزادی، حقوق اور وسائل سلب کرتے رہے۔ لیکن پھر 24 جون 2012ء کو ایک نیا سورج طلوع ہوا اور ملک و قوم کو ڈاکٹر محمد مرسی کی شکل میں پہلا منتخب عوامی صدر ملا، جو مصری عوام کی دہائیوں سے جاری جدوجہد کا حقیقی ثمرہ تھا۔
ڈاکٹر محمد مرسی کو عہدۂ صدر حادثاتی طور پر ملا، کیوں کہ الیکشن کمیشن نے اخوان المسلمون کے سیاسی بازو ’’آزادی و انصاف پارٹی‘‘ کے صدارتی امیدوار خیرت شاطر کو نااہل قرار دے دیا تھا، اس لیے قرعہ فال ڈاکٹر محمد مرسی کے نام نکل آیا، لیکن انہوں نے جلد ہی ثابت کر دکھایا کہ ان کا انتخاب بھی درست تھا، اور وہ اخوان المسلمون کا مکتب ارشاد ہی نہیں، ملک کا اقتدار بھی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ مصر اور پاکستان میں کئی طرح کی مناسبت اور یکسانیت ہے، جن میں اہم ترین ان دونوں ممالک کا اہم محل وقوع، اسلامی ممالک میں بڑی عسکری قوت اور مسلمانوں کی گنجان آبادی ہے۔ جس طرح پاکستان خطے میں اپنا وزن جس فریق کے حصے میں ڈال دے، حالات اسی کے موافق ہوجاتے ہیں، اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں مصر جس طرف جھک جائے، وہی پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔ صدر محمد مرسی کو اپنے ملک کی اس اہمیت اور حیثیت کا باخوبی اندازہ تھا، اس لیے انہوں نے پیش رو فوجی صدور کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے ملکی خارجہ پالیسی کو وسعت قلبی، اچھی ہمسائیگی اور اُخوتِ اسلامی کے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ایک سالہ دورِ صدارت کو ملکی تاریخ کا سنہری دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اس قلیل مدت میں داخلی سطح ہی پر نہیں، بیرونِ ملک بھی بہت سرگرمی اور سرعت دکھائی، جس کا اندازہ ان کے بیرونِ ملک دوروں، اجلاسوں اور بیانات سے باخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
مرسی نے صدر منتخب ہوتے ہی پہلا بیرونی دورہ ہمسایہ برادر ملک سعودی عرب کا کیا۔ اس وقت شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود حیات اور برسراقتدار تھے۔ صدر مرسی نے اس دورے میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا مکمل لحاظ رکھا اور اس بھائی چارے کو مزید فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ مرسی مصر کے نامور علما اور داعیوں کو بھی ساتھ لے گئے تھے، جنہوں نے دونوں قوموں کے درمیان رحم اور مصاہرت یعنی تاریخی ننھیالی اور سسرالی رشتے کو اجاگر کیا کہ عربوں کی ماں حضرت ہاجر علیہا السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمِ ولد حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق مصر سے تھا۔ اس لیے دونوں قوموں میں جو قربت اور تعلق ہے، وہ کسی اور ملک کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔
صدر مرسی اسلام پسند اور اتحادِ اُمت کا خواب دیکھنے والے رہنما تھے۔ وہ اس تاریخی حقیقت سے واقف تھے کہ خطے میں عرب فارس جنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مصر اس میں ہمیشہ جانب دار رہا ہے، تاہم وہ اپنے ملک کو اس تنازع سے الگ کرکے امت مسلمہ کو متحد اور عالمی خصوصاً مغربی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے پیش روؤں کے برخلاف ایران سے بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی اور 30 اگست 2012ء کو ایران میں ہونے والی ’’غیروابستہ ممالک کی تنظیم‘‘ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ حالاں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 1979ء سے منقطع تھے اور گزشتہ 33برس میں کسی مصری صدر نے ایران کا دورۂ نہیں کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 6فروری 2013ء کو مصر میں ہونے والے ’’اسلامی تعاون تنظیم‘‘ کے سربراہ اجلاس میں ایرانی صدر احمدی نژاد شریک ہوئے۔ وہ بھی 1979ء کے بعد مصر کا دورہ کرنے والے پہلے ایرانی صدر تھے۔
صدر محمد مرسی کی یہ کوشش خلوصِ نیت پر مبنی تھی۔ وہ مصر کو علاقائی تنازعات سے نکال کر خطے میں ایک غیرجانب دار ملک کے طور پر روشناس کرانا چاہتے تھے، جو سفارتی لفاظی کے بجائے حقیقی معنی میں اچھا ہمسایہ، وسیع الظرف، بلند سوچ اور اہم مقاصد پر توجہ مرکوز کرنے والا ملک بن کر ابھرے۔ جس کا غم عالمی اور علاقائی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پہلے ہی دن سے قضیہ فلسطین کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ ہر فورم پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی۔ وہ جانتے تھے کہ غزہ کے باشندے 2007ء سے اسرائیلی ناکابندی میں ہیں اور دسمبر 2008ء سے جنوری 2009ء کے دوران صہیونی جارحیت نے اس محصور پٹی میں انسانی صورت حال مزید مخدوش کردی ہے، اس لیے انہوں نے حلف اٹھانے کے چند ہفتوں بعد ہی فلسطینی سیاسی اور مزاحمتی تنظیم ’’حماس‘‘ کی قیادت سے ملاقات کی، اور انہیں یقین دلایا کہ وہ غزہ کے عوام کی مشکلات کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
صدر محمد مرسی نے حماس کی قیادت سے کیے گئے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے مصر سے متصل غزہ کی واحد بین الاقوامی زمینی گزرگاہ ’’رفح‘‘ کو مستقل بنیادوں پر کھولنے کا سلسلہ شروع کیا، تاہم ساتھ ہی بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے اس مقام پر دونوں ممالک کے درمیان اسمگلنگ کے لیے کھودی گئی سرنگیں بھی تباہ کرا دیں۔ یہ صدر مرسی کا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ شاید اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا اقتدار اور رفح کراسنگ پر یہ آزادانہ نقل و حرکت سال بھر ہی رہے گی، ورنہ وہ کبھی بھی یہ سرنگیں تباہ نہ کراتے، جو اہل غزہ کے لیے شہ رگ کا کام کررہی تھیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ انسان جیسا سوچے ویسا ہی ہو۔ البتہ اس کے ذمے اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے، جس کی صدر مرسی نے پوری کوشش کی۔
اسی طرح 2012ء میں اسرائیل نے غزہ پر جارحیت کی، تو صدر مرسی نے تاریخی اعلان کیا کہ ’’ہم غزہ کو اکیلا ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ آج کا مصر ماضی کے مصر سے بالکل جدا ہے‘‘۔ ساتھ ہی انہوں نے مصر کی جانب سے قومی سطح پر اہل غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور وزیراعظم ہشام قندیل کی قیادت میں ایک وفد بھی وہاں بھیجا۔ انہوں نے زخمی فلسطینیوں کے لیے اپنی سرحد کھول دی اور مصر کے اسپتالوں میں مصری شہری کے طور پر انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سفارتی ذرائع اور حیلے استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت رکوانے اور جنگ بندی کرانے کی کوششیں بھی کیں، جو کامیاب رہیں، اور نتیجتاً حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی طے پاگئی۔ معزولی کے بعد بھی ان کا دل اہل غزہ کے لیے تڑپتا رہا اور 2014ء میں محصور پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے دوران انہیں مصر کی فوجی عدالت میں پیش کیا گیا، تو وہ پنجرے کے اندر سے بھی یہی نعرہ لگارہے تھے: ’’لبیک یا غزہ! لبیک یاغزہ!‘‘
صدر مرسی جانتے تھے کہ ان کی قوم آمریت کے 60برسوں میں کس کرب اور عذاب سے گزری ہے، اور آج بہارِ عرب نے انہیں یہ دن دکھائے ہیں کہ مصر میں پہلی منتخب عوامی حکومت قائم ہے اور شہریوں کو اپنی امیدیں پوری ہوتی نظر آنے لگی ہیں۔ اس لیے انہوں نے بہارِ عرب سے متاثر ہونے والے دیگر برادر ممالک میں بھی آمروں کے خلاف عوامی انقلابی تحریکوں کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے جون 2013ء میں قاہرہ میں ہونے والی ’’نصرتِ سوریا کانفرنس‘‘ سے خطاب کے دوران شامی ڈکٹیٹر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ ہر نوعیت کے تعلقات ختم کرنے اور قاہرہ میں شامی سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شامی عوام کو اپنے ہی حکمران کی وحشیانہ بم باری سے بچانے کے لیے شام کی فضا کو ’’نوفلائی زون‘‘ قرار دیا جائے۔ انہوں نے بشارالاسد کی حلیف ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام سے نکل جائے۔ اسی طرح شامی علما، داعیوں اور انقلابی قیادت کی ایک کانفرنس بلائی، جس میں شام میں جہاد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
صدر مرسی کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا، اس لیے فلسطینی جماعت حماس کی طرح ترکی کی حکمراں ’’انصاف و ترقی پارٹی‘‘ کے لیے بھی ان کے دل میں ویسی ہی عقیدت اور احترام تھا۔ اپنی صدارت کے دوران انہوں نے ترکی کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب عبداللہ گل اور اس وقت کے وزیراعظم رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں جہاں ایک طرف دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، وہیں قضیہ فلسطین اور شامی انقلابی تحریک کی حمایت و مدد سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔ صدر مرسی نے وہاں انصاف و ترقی پارٹی کے چوتھے سالانہ اجلاس سے خطاب بھی کیا، جس میں وہ مظلوم شامیوں کے لیے گرجتے نظر آئے۔
صدر مرسی ایک دردمند مسلمان حکمران کی طرح اُمت مسلمہ اور مظلوم مسلمانوں کے لیے سرگرم رہے۔ اپنے ایک سالہ دورِ صدارت میں انہوں نے مسلمانوں کے اہم ترین مسائل کو اجاگر کیا، بغیر کسی لگی لپٹی کے مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی اور ان قضیوں کو حل کرانے کے لیے جو کوششیں کیں، ماضی قریب میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ شاید اسی جرم میں انہیں معزول کرا دیا گیا۔
دوسری جانب 24 جون 2011ء سے 3جولائی 2013ء کے دوران وہ ایک دن بھی اپنی قوم کے مسائل سے غافل نہیں رہے۔ انہیں اندازہ تھا کہ مصری قوم نے کس جدوجہد کے بعد 60 سالہ آمریت سے نجات حاصل کی ہے، اور وہ آزادیوں، حقوق، سہولیات اور خدمات سے متعلق اپنے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ مصری قوم کو بھی ان پر اعتماد تھا، جبھی 52 فیصد ووٹوں کے ساتھ انہیں صدارتی انتخابات میں کامیاب کرایا تھا۔ تاہم ملکی فوج، اشرافیہ اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتیں مصر کو پہلی بار اس آزاد و صحت افزا ماحول میں پروان چڑھنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھی۔ اس لیے غیرمرئی طاقتوں نے ایک سال کے اندر ہی صدر مرسی کی ناکامی کا پروپیگنڈا شروع کردیا اور اپریل 2013ء میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد شروع کرا دی۔
30جون 2013ء کو صدر مرسی کے خلاف مظاہروں کی کال دی گئی اور اگلے ہی روز مسلح افواج نے سرکاری ٹی وی چینل پر اعلان کر دیا کہ صدر مظاہرین کے مطالبات تسلیم کریں، ورنہ فوج مداخلت کرکے مستقبل کا لائحہ عمل طے اور اسے نافذ کرے گی۔ فوج کے اس اشارے پر مظاہروں میں شدت آگئی اور بالآخر 3جولائی 2013ء کو فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح سیسی نے قوم کے اس محسن کو اقتدار سے اتار کر سوئے دار بھیجنے کی تیاری شروع کردی۔
صدر مرسی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے ساتھ ان کے حامیوں نے بھی بڑی تعداد میں ریلیاں نکالیں اور بعد ازاں دھرنا دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنے منتخب صدر کو واپس کرسی صدارت پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ مظاہرین ڈیڑھ ماہ تک میدانِ نہضہ اور مسجد رابعہ عدویہ کے سامنے دھرنا دیے رہے۔ انہیں منتشر کرنے کے لیے 14 اگست 2013ء کو مصری فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے گولیاں چلائیں، ان پر گاڑیاں چڑھا دیں اور ان کے خیموں و مسجد کو آگ لگادی، جس کے نتیجے میں محتاط اعدادوشمار کے مطابق 632افراد شہید اور 4 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ دیگر ذرائع شہدا کی تعداد بھی ہزاروں میں بتاتے ہیں۔ اسی طرح اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت اکثر رہنماؤں کو ہزاروں حامیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا اور یہ سلسلہ آیندہ برسوں میں بھی جاری رہا۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس سانحے کے بعد سے تقریباً 50 ہزار افراد کو سیاسی بنیادوں کو گرفتار یا لاپتا کیا گیا۔ سیکڑوں افراد کو سرائے موت اور عمر قید سنائی گئی، جب کہ ہزاروں کو مختلف مدت کی سزائے قید کا سامنا کرنا پڑا۔
ان سیاسی قیدیوں میں سرفہرست مصری قوم کے محسن اور مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن صدر محمد مرسی تھے، جن پر درجنوں جھوٹے فوجداری مقدمات بنائے گئے۔ فوج کے اشاروں پر ناچنے والے ججوں نے انہیں مختلف مقدمات میں سزائے موت اور عمر قید بھی سنائی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعونِ وقت جنرل سیسی کے شر سے محفوظ رکھا اور وہ چاہتے ہوئے بھی ان کی سزائے موت پر عمل نہ کراسکا۔ بالآخر بہ روز پیر 17 جون 2019ء صدر محمد مرسی اپنے خلاف ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت کے ایک ساؤنڈ پروف پنجرے میں انتقال کرگئے۔
قفس عنصری سے روح پرواز کر جانے سے قبل انہوں نے تقریر کی اجازت مانگی، جس کے بعد ان کی آواز باہر سنائی دینے لگی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ان کے پاس بڑی تعداد میں ایسے سربستہ راز ہیں، جنہیں عام کرکے وہ رہائی پاسکتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے، کیوں کہ اس سے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی‘‘۔ انہوں نے ججوں پر یہ بھی واضح کیا کہ ’’ان کی صحت ٹھیک نہیں اور گزشتہ ہفتے انہیں بے ہوشی کے کئی دورے پڑ چکے ہیں، تاہم انہیں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عدالت میں کیا چل رہا ہے، وکیل کہاں ہے، میڈیا کہاں ہے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ حتیٰ کہ حکومت کے فراہم کردہ وکیل صفائی کے پاس بھی مقدمے سے متعلق معلومات نہیں‘‘۔ آخر میں انہوں نے وہ شعر پڑھا، جس سے اس تحریر کا آغاز کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ زمین پر گر پڑے۔ انہیں بہت دیر سے اسپتال پہنچایا گیا، لیکن اس وقت تک روح اور جسم کا تعلق ٹوٹ چکا تھا۔
صدر مرسی کی وفات نے مصر کے فوجی حکمران جنرل سیسی کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا۔ فوج اور وزارتِ داخلہ نے ممکنہ ردعمل کے خوف سے ملک بھر میں ہائی الرٹ کردیا اور رات کے اندھیرے میں صدر مرسی کو مدینہ النصر کے قبرستان میں اخوان المسلمون کے مرحوم مرشدین کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ تدفین میں صرف مرحوم کی اہلیہ، بچوں اور دو بھائیوں کو شرکت کی اجازت دی گئی، جب کہ ان کے لاکھوں چاہنے والوں کو ان کا آخری دیدار تک نہ کرنے دیا گیا۔
اپنی ہی قوم کے مقتدر طبقے کا ظلم سہنے والے صدر محمد مرسی اب منوں مٹی تلے آرام کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی سربلندی کے لیے بے قرار اس روح کو بالآخر اپنے پاس بلا کر اس ڈَھلتے جسم کو قبر کی آغوش میں راحت بخش دی ہے۔ وہ ساری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے عروج کا خواب دیکھتے رہے۔ انہوں نے اسی مقصد کے لیے جان دی اور اس امید پر اس دنیا سے رخصت ہوئے کہ
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا