مرثیہ

97

وداعا إنما یبقی ندائي
وھذا العھد تختمہ دمائي
الوداع (دوستو!) کہ میرے بعد میری آواز ہی رہ جائے گی
اور اس عہد کا اختتام میرے لہو سے ہوگا

ودرب الحق یحملہ رجال
رجال اﷲ ھم أھل اللواء
حق کی راہ پر مرد ہی چلا کرتے ہیں
اللہ کے حقیقی بندے ہی اس دین کے علم بردار ہیں

وإني لم أبع دیني وأرضي
وإني لم أخن أھل الإباء
میں نے اپنے دین اور سرزمین کا سودا نہیں کیا
اور نہ ہی میں نے ضمیر والوں سے خیانت کی

وإنا في سبیل اﷲ نمضي
سبیل اﷲ لا درب الإماء
ہم خدا ہی کی راہ پر چلنے والے ہیں
نہ کہ عورتوں کا راستے اختیار کرنے والے

وأمتنا ستنھض بعد وھن
وعند النصر لاتنسوا دعائي
ہماری امت اس پستی کے بعد ضرور اٹھے گی
اور فتح کے وقت مجھے اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کرنا

ولن ننسی أیا مرسي ھزبرا
لأمتہ مضی نحو الفداء
شیر دل مرسی ہم کبھی آپ کو فراموش نہیں کرسکیں گے
جو اپنی امت کے لیے قربانی کی راہ پر چلا
احمد الکندی