کینیڈا:صوبے کیوبک میں متنازع مذہبی علامات پر پابندی کا بل منظور

195

کینیڈا کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے اور سیکولر ترین صوبے کا دعوی کرنے والے صوبے کیوبک کی اسمبلی نے متنازع مذہبی علامات پر پابندی کا بل منظور کرلیا۔

ترکی کے خبر رساں ادارے انا دولو کے مطابق مذہبی علامات پر پابندی کے متنازع بل 21 کو سیکولر صوبے کی اسمبلی نے اکثریت سے پاس کیا۔متنازع بل کے تحت کوئی بھی سرکاری افسر ڈیوٹی کے دوران چہرہ ڈھانپنے سمیت کسی بھی مذہب کو ظاہر کرنے والی علامات ظاہر نہیں کر سکتا۔

نئے بل کے تحت سرکاری ٹرانسپورٹ کے ملازمین بھی مذہبی علامات کو استعمال نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔بل میں نظم و ضبط کے اقدامات کی شق شامل کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ مذہبی علامات کا استعمال نہ کریں۔

مذہبی علامات پر پابندی کے اس نئے قانون سے سب سے زیادہ مسلمان اور خاص طور پر مسلمان خواتین متاثر ہوں گی اور متنازع بل پر کینیڈا کی کئی مسلمان تنظیموں نے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔مسلمان تنظیموں کے مطابق مسلم خواتین کو نظم و ضبط کے اقدامات کے تحت پردہ کرنے سے روکا جاتا ہے اور پردہ کرنے والی خواتین کو سیکیورٹی کے نام پر روک جاتا ہے۔

کیوبک صوبے کے اس متنازع بل پر خود وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بل کے اصل مسودے میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا جائے گا۔

مسلمان تنظیموں نے بل 21 کی منظوری کو مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس متنازع بل کا مقصد مسلمانوں اور خصوصی طور پر خواتین کو ٹارگٹ کرنا ہے۔صوبے کیوبک کی جانب سے اس طرح کے متنازع بل پاس کرنے پر کینیڈا کے وزیر اعطم جسٹن ٹروڈو بھی ماضی میں خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری افسران کو کام کے دوران مذہب کو ظاہر کرنے والے لباس اور دیگر مذہبی علامتی چیزوں کے استعمال سے روکنے کے حوالے سے یہ بل کافی عرصے سے زیر بحث تھا۔

ابتدائی طور پر کیوبک صوبے نے 2017 میں بھی سرکاری افسران پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کی تھی اور اس کے بعد مذہبی علامات پر پابندی پر قانون سازی چل رہی تھی۔