محمد مرسی کی زندگی پر ایک نظر

353

مصر کی جدید تاریخ کے پہلے غیر فوجی اور جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے صدر محمد مرسی 20 اگست 1951 میں پیدا ہوئے اور قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ(پی ایچ ڈی)کی ڈگری حاصل کی۔

مرحوم نے1980 میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔

محمد مرسی 1985 میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا اور 2000 سے 2005 کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔

2005 کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نےاپنی جدو جہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔

اسلام پسندوں کی جماعت اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔

پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے2011 میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے(اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔

مئی 2012 میں مصرصدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا جس میں محمد مرسی اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔

جون 2012 میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسی نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیر اعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔

اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسی نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔انہوں نے20 جون 2012 کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

جون 2013 میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔

مصری فوج نے یکم جولائی 2013 کو مرسی کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کردیا۔

اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدرعبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نےتین جولائی کو محمد مرسی کو معزول کر کے جیل میں ڈال دیا۔مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسی اور 132 دوسرے افراد پر 2011 میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔

اپریل 2014 میں عدالت نے مرسی کو 2012 میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔

مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015 میں مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انھوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دورانغیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011 میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔

عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسی نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی جسے مسترد کردیا گیا۔

مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔

تین سال قبل 15 نومبر 2016 کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا ہے تھا لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔

جیل چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔

محمد مرسی گزشتہ روز عدالت میں ایک پیشی کے موقع پر اچانک گر کر بے ہوش گئے اور بعد ازاں مصر کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی کہ ملک کے سابق صدر انتقال کر گئے۔

مصر کے پہلے منتخب سابق صدر محمد مرسی کو قاہرہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔محمد مرسی کی تدفین قاہرہ کے مشرقی علاقے مدینۃ النصر میں ان کے رشتہ داروں کی موجودگی میں کی گئی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق 67 سالہ محمد مرسی کی موت گزشتہ روز حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی جب کہ دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے گروپس نے محمد مرسی کی حراست میں موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔