میڈیا رپورٹس مسترد کسی بھی کھلاڑٰی نے کرفیو ٹائم کی خلاف ورزی نہیں کی، پی سی بی

59

 

کراچی ( وائس آف ایشیا)پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک اور دیگر کھلاڑیوں کی پاک بھارت میچ سے ایک رات قبل کرفیو ٹائم کی خلاف ورزی کی تردید کر دی۔ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی پاک بھارت مقابلے سے قبل سرگرمیوں پر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شعیب ملک اور ثانیہ مرزا اور ان کا بیٹا اذہان ،فاسٹ بولر وہاب ریاض اور ان کی اہلیہ اور قومی اوپنر امام الحق رات گئے کسی ریسٹورنٹ میں موجود ہیں جب کہ وہاب ریاض کی اہلیہ شیشہ پیتی بھی نظر آرہی ہیں۔پاکستانی قوم پہلے ہی میچ ہارنے کی وجہ سے غم و غصے کے عالم میں تھی،کھلاڑیوں کی ان سرگرمیاں ویڈیوز اور تصاویر میںسامنے آئیں تو قوم سیخ پا ہو گئی اور سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں پر شدید تنقید کی تاہم اب اس پر پی سی بی کی وضاحت آ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بوڑد کی جانب سے شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کی دیگر قومی کرکٹرز کے ساتھ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پر وضاحت جاری کر دی گئی ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ کھلاڑی میچ سے 2روز قبل فیملیز کے ساتھ مینجمنٹ کی اجازت سے ہوٹل سے باہر گئے تھے اور یہ ویڈیوز اسی روز کی ہے۔پی سی بی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میچ سے پہلے ہفتہ کی رات کھلاڑی ہوٹل میں ہی موجود تھے اور کسی بھی کھلاڑی نے کرفیو ٹائم کی خلاف ورزی نہیں کی۔بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی ناقص کارگردگی پر پی سی بی کا کہنا تھا کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ورلڈ کپ کے بعد کپتان، سلیکٹرز اور کوچز کی کارگردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اگلی کمٹمنٹ ستمبر اور اکتوبر میں ہے۔سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ٹورنامنٹ کے دوران کارگردگی کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کیخلاف میچ سے ایک رات قبل تمام کرکٹرز ہوٹل میں موجود تھے اور سوشل میڈیا پر کرکٹرز کی گردش کرنے والی ویڈیو میچ سے 48گھنٹے قبل کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میچ ہارنے پر اس قسم کے ایشوز کا سامنا آنا کوئی نئی بات نہیں ۔ اسکینڈل بنانے کیلئے لوگ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ، پرانی چیزوں اور واقعات کو کرکٹرز کے ساتھ جوڑنے کے ماہر ہیں ۔ قومی ٹیم کے کسی کھلاڑی نے ڈسپلن کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی قومی ٹیم کی مینجمنٹ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ کرتی ہے ۔