مقبوضہ جولان میں یہودی بستی ٹرمپ ہائیٹس کا افتتاح

58
جولان/ الخلیل:ـ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین ’’ٹرمپ ہائٹس‘‘ کا افتتاح کررہے ہیں
جولان/ الخلیل:ـ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین ’’ٹرمپ ہائٹس‘‘ کا افتتاح کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی جانب سے خطے میں اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں پر صہیونی تسلط کو جواز فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس خدمت کے عوض میں اسرائیل نے شام کے مقبوضہ علاقے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے ایک نئی یہودی بستی آباد کی ہے۔ خبرررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مقبوضہ جولان میں یہودی آباد کاری کے اس نئے منصوبے کا افتتاح کردیا ہے اور اس کا نام ’’ٹرمپ رامات‘‘ یعنی ٹرمپ ہائٹس رکھا گیا ہے۔نیتن یاہو نے ٹرمپ ہائٹس کے منصوبے کی تختی کی نقاب کشائی کی، جب کہ اس تقریب میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین اور اسرائیلی کابینہ کے ارکان بھی شریک تھے۔ تقریب سے خطاب میں امریکی سفیر نے اسرائیل کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ کے لیے سالگرہ کا تحفہ قرار دیا۔ جب کہ ٹرمپ نے بھی بستی کو خود سے منسوب کیے جانے پر ایک ٹوئٹ میں نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا اور اسے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ جولان ہائٹس کے متنازع علاقے میں واقع اس یہودی بستی کا نام بروشم تھا، جسے اب بدل کر ٹرمپ ہائٹس کردیا گیا ہے۔ اس بستی کو صدر ٹرمپ سے منسوب کرنے کی منظوری اسرائیل کی کابینہ نے دی ہے۔ کابینہ نے بیان میں کہا کہ اس نے یہ اقدام جولان ہائٹس کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے پر اظہارِ تشکر کے طور پر کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں جولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سے متعلق ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یا ہو اور دیگر اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی عہدے دار بھی موجود تھے۔صدر ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ جولان پر اسرائیلی خود مختاری کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس سے پہلے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ جولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے باون سال سے کنٹرول کے بعداب امریکا کو کوئی اقدام کرنا چاہیے اوراس کی اس علاقے پر خود مختاری تسلیم کر لینی چاہیے۔ شام کی سرحد سے 20 کلومیٹر دور واقع بروشم 30 سال پرانی بستی ہے جس کی آبادی صرف 10 افراد پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس بستی کو صدر ٹرمپ سے منسوب کرنے کا مقصد اسے توسیع دینا اور مزید افراد کو یہاں آبادکاری پر راغب کرنا ہے۔ اسرائیل ماضی میں بھی جولان میں یہودی آباد کاری کے فروغ کی ناکام کوششیں کرچکا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے اس شامی علاقے پر 1967ء کی 6 روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور 1980ء میں اس کو غاصبانہ طور پر صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا، مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور امریکا کے سوا دنیا کے تمام ممالک جولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔