دنیا پر جنگی جنون سوار ایٹمی ہتھیاروں پر سرمایہ کاری بڑھ گئی

83

اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر کی جوہری طاقتوں نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو جدید تر بنانے پر سرمایہ کاری میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ انکشاف اسٹاک ہوم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’سپری‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ یا سپری نے پیر کے روز جاری کردہ اپنی اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2018ء میں عالمی سطح پر ذخیرہ کردہ جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں 4 فیصد کی کمی دیکھی گئی، تاہم ساتھ ہی جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک نے اپنے ایسے ہتھیاروں کو جدید تر بنانے پر خرچ کی جانے والی رقوم میں بھی اضافہ کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق 2018ء کے آغاز پر جوہری طاقتوں کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاورں اور وار ہیڈز کی تعداد 13ہزار 865 تھی، جو 2017ء کے مقابلے میں تقریباً 600 کم ہے،لیکن گزشتہ برس ایسے ہتھیاروں کو اور بھی جدید بنانے پر جو رقوم خرچ کی گئیں، وہ 2017ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔پچھلے برس کے آغاز پر دنیا کے مختلف ممالک کے پاس جو تقریباً 14 ہزار جوہری ہتھیار تھے۔ ان میں وہ وار ہیڈز بھی شامل تھے، جو کسی بھی وقت استعمال کے لیے بالکل تیار تھے۔ رپورٹ میں سپری نے جن 9 ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی تسلیم کی ہے، ان میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ مزید یہ کہ دنیا بھر میں موجود ہزارہا جوہری ہتھیاروں کا تقریباً 90 فیصد صرف 2ممالک امریکا اور روس کے پاس ہے۔اس وقت ایسے جوہری وار ہیڈز کی مجموعی تعداد بھی تقریباً 2ہزار بنتی ہے، جنہیں ان 9 ممالک نے کسی بھی وقت استعمال کے لیے مکمل تیاری کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال جنوری تک امریکا کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6185 اور روس کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6500 بنتی تھی۔