سیلز ٹیکس خلافت، زیرور یٹیڈ ایکسپورٹرز کا احتجاج تیسرے دن بھی جاری

121

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)لاہو ر ملتان سمیت ملک کے پانچ بڑے شہروں میں ابتدائی طور پر پُرامن احتجاج کیا جائے گا ہفتہ کے دن ایکسپورٹ ٹوکن ہڑتال کے طور پر بند رکھی جائے گی۔انھوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیلز ٹیکس خلاف زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹر کا احتجاج تیسرے دن بھی جاری ۔فائیو زیرو ریٹیڈ ایکسپورٹرکے سربراہ جاوید بلوانی اور زبیر موتی والا نے ہفتہ کی شام کراچی پریس کلب میںاحتجاج کا اعلان کیا تھابجٹ میںپانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرکے لئے زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹی پر تباہ کن ضرب لگائی گئی ہے جس سے ایکسپورٹرز کی مالی مشکلات تشویشناک حد تک بڑھ جائیں گی اور اسمال اینڈ میڈیم صنعتیں ختم ہو جائیں گی اور ایکسپورٹس میں آئندہ مالی سال میں 30فیصد تک کمی ہو جائے گی ۔ ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹرزحکومت کے تجویز کردہ انتہائی سخت اقدام سخت مضطرب اور فکرمند ہیں ۔ بجٹ میںپانچ بڑے ایکسپورٹ سیکڑز (ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل، اسپورٹس گڈز، سرجیکل گڈز، لیدر اینڈ کارپیٹ)نے حالیہ بجٹ میں زیرو ریٹنگ کے خاتمہ ایس آر او 1125کی منسوخی اور نو پے منٹ نو ریفنڈ سسٹم کے خاتمہ کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے دیا ۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی بجٹ پاکستان تحریک انصاف کے منشور اور ایکسپورٹ پالیسی سے متصادم ہے اورپاکستان کی ایکسپورٹس کو تباہ کرنے کے لئے ایک منصوبہ بند سازش دکھائی دیتی ہے جس سے نہ صرف ایکسپورٹس میں کمی واقع ہوگی بلکہ بے روزگاری پھیلنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کم ہو گا اور معیشت بھی کمزور ہو جائے گی۔ماضی میں حکومتوں نے 1فیصد یا 2فیصد کی شرح سے پانچ زیرو ریٹیڈ سکیٹرز پر سیلز ٹیکس عائد کئے مگر موجودہ حکومت نے 17فیصد سیلز ٹیکس کا بم ایکسپورٹ انڈسٹری پر گرانے کا قصد کیا ہے جو تمام ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹس کے ساتھ ساتھ مکمل انڈسٹرئیل چین اور الائیڈ انڈسٹریز کو بھی تباہ کر دے گا۔ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے اپنی نااہلی کو چھپانے کی خاطر تمام بوجھ ایکسپورٹ انڈسٹری پر ڈال دیا ہے جو پہلے ہی 22مختلف محکموں کو حکومت کیلئے ٹیکس جمع کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذایکسپورٹانڈسٹریز کو بندہونے پر مجبور کر دے گا۔اس اقدام سے غیر ملکی خریدار بھی پاکستان سے خریداری کے بجائے خطے میں دیگر ممالک کی رخ کریں گے جس کے ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر حکومت نے ایکسپورٹر ز کو درپیش معاملات اور مسائل کے حل پر توجہ نہ دی تو اسٹیک ہولڈرز احتجاج کے طور پر NO EXPORT DAYS منائیں گے۔ سیلز ٹیکس کے نفاذ کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹی پر تباہ کن ضرب اور ایکسپورٹرز کی مالی مشکلات تشویشناک حد تک اضافے کے خلاف اور پاکستان کی ایکسپورٹس اور انڈسٹریز کو بچانے کی خاطر زیرو ریٹیڈ اسکیم کے نو پے منٹ نو ریفنڈ کے نظام کو لازمی جاری رکھنے کے حق میںویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹ ایسوسی ایشنزنے آج پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان، قصور اور گوجرانوالہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاداور پرامن احتجاجی مظاہر ہ کیا۔ پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو پہلے ہی کئی چیلنجز اور بحرانی کیفیت کا سامنا ہے اور اس وقت تاریخ کے سے سب سخت لیکیویڈیٹی کرنچ کا شکار ہیں۔ ایکسپورٹرز کے 200بلین روپے سے زائد کے سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، ودہولڈنگ ٹیکس، ڈیوٹی ڈرابیک آن لوکل ٹیکسس لیویز اور ڈی ڈی ٹی کے کلیمز کی حکومتوں نے تاحال ادا نہیں کئے۔زیروریٹنگ کے خاتمہ کی صورت میںایکسپورٹرز کی ہر شمپنٹ جو گارمنٹس کی تیاری سے شپمنٹ تک تقریباً چار ماہ لیتی ہے 14فیصد لیکویڈیٹی ہر چاہ ماہ میں پھنس جائے گی۔