اثاثہ

114

 

طارق مسعود بیگ

اپنے آفس اسٹاف سے عید مل کر ابھی اپنے کمرے میں داخل ہی ہوا تھا کہ آفس پیون ڈرا اور سہما میرے کمرے میں داخل ہوا اور بولا…
صاحب! کیا اب ہم سب کو اپنااثاثہ ظاہر کرنا پڑے گا؟
میں نے جواب دیا اگر چھپایا ہو تب…
اس نے کہا: صاحب! اب ہم سب کو ٹیکس دینا ہوگا؟
میں نے جواب دیا اگر نیٹ میں آگئے تو…
وہ بولا: صاحب! اگر ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو کیا ہوگا؟
میں نے کہا: ہمارا ملک اوپر نہیں جائے گا۔
حیرانگی سے بولا: صاحب! ہمارا ملک تو بہت اوپر جارہا ہے۔ مہنگائی میں، بیروزگاری میں، ناخواندگی میں، بیماری میں اور کتنا اوپر جائے گا؟
میں نے سمجھاتے ہوئے کہا دیکھو ملکی معیشت تو نیچے جارہی ہے۔
بہت کچھ سمجھتے ہوئے سوچ کر بولا: صاحب! جو ٹیکس آپ لوگ دیتے ہو اس سے معیشت اوپر کیوں نہیں جاتی؟
میں نے سمجھایا: ملکی قرضہ بڑھ گیا ہے۔ جو ٹیکس ہم دیتے ہیں اس میں سے آدھا قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جو بچ جاتا ہے اس سے ملکی اخراجات پورے نہیں ہوتے۔
اس نے کرسی سے ٹیک لگایا ایک گہرا سانس لیا اور بولا: صاحب! ایک دفعہ میرے ابّا پر قرضہ چڑھ گیا۔ ابّا نے آدھی تنخواہ قرضہ میں دینی شروع کردی اور آدھی امّاں کے ہاتھ پر رکھ دی۔ امّاں نے اس آدھے میں بھی ہم آٹھ بہن بھائیوں کے ساتھ کھانا، پینا، اسکول فیس، بجلی، پانی، گیس کا بل، گھر کا کرایہ، خوشی غمی سب پورا کردیا۔
پھر سیانوں کی طرح بولا: ’’صاحب! پورے کا آدھا تو سب روتے ہیں آدھے کا پورا کرناکمال ہے…‘‘
میں نے ناصحانہ انداز میں کہا: دیکھو اگر ہم عظیم قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔
وہ ہنستے ہوئے بولا: صاحب! کیوں ہم غریبوں کے ساتھ مذاق کررہے ہو۔ پہلے گاتے تھے ’’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئے گی‘‘۔ پھر چیخنے لگے ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے‘‘۔ اب سمجھاتے ہو ’’اپنے آپ کو تبدیل کرو‘‘۔
وہ کچھ دیر رکا پھر پریشانی کے عالم میں پوچھا: صاحب! میرے پاس ایک سائیکل ہی اپنا اثاثہ ہے اگر میں اسے ظاہر نہ کروں تو کیا ہوگا؟
میں نے رعب میں لاتے ہوئے کہا: ’’اب گورنمنٹ کے پاس وہ انفارمیشن ہے جو پہلے کبھی کسی گورنمنٹ کے پاس نہیں تھی‘‘۔
اس نے رعب میں نہ آتے ہوئے جواب دیا: چھوڑو صاحب! جنہوں نے ملکی خزانہ کھایا، مال بنایا، اپنا اثاثہ چھپایا، میڈیا نے ساری دنیا کو دکھایا، ان کا کوئی کیا بگاڑ پایا۔
وہ غصہ کے عالم میں کرسی سے اٹھا باہر جانے کے لیے پلٹا لیکن پھر رک کر بولا: صاحب! ایک آخری بات کا جواب دو۔ تم ٹیکس فائل کرتے ہو، تم اثاثہ ظاہر کرتے ہو، تمہارا NTN ہے، تمہاری تنخواہ میں سے ٹیکس ہر ماہ کٹ جاتا ہے۔ تم پراپرٹی ٹیکس، وہیکل ٹیکس، خریداری ٹیکس، پٹرول اور موبائیل بیلنس پر ٹیکس دیتے ہو۔ تم بجلی، پانی، فون، میونسپلٹی کارپوریشن کا بل بھرتے ہو اس پر ٹیکس دیتے ہو۔
کیا تمہارے گھر پانی آتا ہے؟ گیس آتی ہے؟ کیا تمہارے گھر کی بجلی نہیں جاتی؟ فون کی خرابی منٹوں صحیح ہوجاتی ہے؟ تمہارے گھر اور گلی کا کچرا میونسپل کارپوریشن والے اٹھاتے ہیں؟ وہ گٹر بھی صاف کرتے ہیں؟ سڑکیں VIP ہیں؟ جب تم کسی سرکاری دفتر میں کام کے لیے جاتے ہو تو دھکے نہیں کھاتے؟ تمہیں سرکاری اداروں میں VIP پروٹوکول ملتا ہے؟
وہ بولا: ’’صاحب! تم جن (حکومت) کو اپنا اثاثہ بتاتے ہوکیا انہوں نے بھی کبھی تمہیں اپنا اثاثہ سمجھا ہے‘‘۔
وہ چلا گیا اور میں سوچ میں ڈوب گیا فکر میں کھو گیا…
میرے پاس اس کے ان سوالوں کا جواب نہ تھا۔ کیا آپ کے پاس ہے؟