بھارت سے شکست ، حقائق کا سامنا کریں

120

پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر بھارت سے ورلڈ کپ کے مقابلوں میںمیچ ہار گئی ۔ کھیل تھا ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن پاکستانی شائقین بہت بری طرح مایوس ہوئے ۔ پاک بھارت کرکٹ کے حوالے سے پاکستانی قوم ویسے بھی جذباتی ہے اس کا بڑا سبب پاکستانی میڈیا ہے اور بھارتی میڈیا بھی صورتحال کو مزید بھڑکاتا ہے۔ اگر کھیل سے واقف لوگ تجزیہ کریں تو بہت واضح ہے کہ پاکستان کی موجودہ کرکٹ ٹیم کا بھارتی کرکٹ ٹیم سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ دونوں ٹیموں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ بھارتی ٹیم نہایت مضبوط ، تجربہ کار اور سخت مقابلے کے وقت مزید مضبوط ہو جانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے ۔بھارت دو مرتبہ عالمی چیمپئن رہا ہے اگرچہ اسے کرکٹ پنڈتوں نے فیورٹ قرار نہیں دیا ہے لیکن بھارتی ٹیم کے بارے میں تمام ماہرین یہی کہتے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ جیت سکتی ہے ۔ اس وقت بھی صرف نیوزی لینڈ اور بھارت کی ٹیمیں کوئی میچ نہیں ہاری ہیں ، ایسی ٹیم سے اگر پاکستان شکست کھا جائے تو یہ انہونی نہیں ۔ ایسا ہونا تھا ۔ لیکن اس پر سارے ملک میں تنقید اور ہنگامہ ہو رہا ہے ۔ اس ساری خرابی کا سبب میڈیا ہے جو اپنے اشتہارات پکے کرنے کے لیے پاکستانی ٹیم کو آسمان پر چڑھاتا ہے اور جب حقائق سامنے آتے ہیں تو وہی میڈیا تنقید میں بھی آگے آگے ہوتا ہے ۔ پاکستانی ٹیم کے بارے میں پہلے بھی توجہ دلائی جاتی رہی ہے کہ ٹیم کے انتخاب میں غلطیاں ہور ہی ہیں۔بیٹنگ بھی مضبوط اور قابل اعتبار نہیں ہے ۔ لیکن کرکٹ بورڈ نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ مصباح الحق ، یونس خان اور شاہد آفریدی کے حوالے سے بھی بورڈ اور حکومت کو پہلے غور کرنا تھا ۔ جو لوگ ہر حال میں ورلڈ کپ جیتنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ حقائق سے نا واقف ہیں ۔ اس ٹورنامنٹ میں جب پاکستان انگلینڈ سے جیتا تھا تو کیا اس کی ذمے داری کسی نے مکی آرتھر یا انضمام پر ڈالی تھی ۔ یہ پورا معاملہ وزیر اعظم کی سطح پر توجہ کا متقاضی ہے ۔ پاکستان میں تو ہاکی کو بھی سرکاری سطح پر تباہ کیاگیا ہے ۔