بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گیفضل الرحمن اور بلاول کا اتفاق

67

اسلام آباد(صباح نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے بجٹ منظور نہ ہونے دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کے نمائندوں نے بنایا ہے جو عوام اور ملک دشمن ہے۔ ملاقات کے دوران حکومت مخالف تحریک اور کل جماعتی کانفرنس(اے پی سی)پر مشاورت کی گئی، بلاول مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں اور بجٹ کے حوالے سے بات کی گئی جب کہ حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پرویز اشرف، خورشید شاہ، غفور حیدری اور دیگر رہنما موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو میں بلاول کا کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمن سے اے پی سی پر بات چیت ہوئی،پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا الگ نظریہ ہے تاہم سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف احتجاج میں جے یو آئی نے ساتھ دیا تھا،کٹھ پتلیوں کے پاکستان میں جمہوریت کو نقصان ہورہا ہے،ان حکمرانوں کو نکالنا ہوگا،پارلیمان کو مدت پوری کرنی چاہیے ،آئی ایم ایف کے حکم پربجٹ بنایا گیا،منظور نہیں ہونے دیں گے تاہم اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مل کرکام کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا،بلاول کے موقف کی تائید کرتا ہوں کہ غریب آدمی راشن خریدنے کے قابل بھی نہیں رہا، حکومت نے غریب دشمن بجٹ پیش کیا اور معاشی طور پر ہمیں غلام بنادیا گیا،پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے بھی اتنے قرضے نہیں لیے، حکومت کا خاتمہ قوم کی نجات کا راستہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا کہ جون کے آخری ہفتے میں کل جماعتی کانفرنس کریں گے اور اس میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں شریک ہوں گی جس کے بعد تمام جماعتوں کا متفقہ ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور(ن) لیگ کے مزید لوگوں کے گرفتار ہونے کا امکان ہے۔