سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، بلاگر اور وی لاگر محمد بلال خان کو قتل کردیا گیا

320

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، بلاگر اور وی لاگر محمد بلال خان کو قتل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، بلاگر اور وی لاگر محمد بلال خان کو قتل کردیا گیاسپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) صدر ملک نعیم نے میڈیا کو اس بات کی تصدیق کی کہ بلاگر محمد بلال کو اتوار کی شب قتل کیا گیا۔ ایس پی نعیم نے تصدیق کی کہ محمد بلال خان پر وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی 9 فور (G-9/4) میں حملہ کیا گیا، جس میں بلاگر جان بحق جبکہ اس کا دوست احتشام زخمی ہوگیا۔

پولیس حکام کے مطابق محمد بلال خان، جن کے یوٹیوب پر 48 ہزار، فیس بک پر 22 ہزار جبکہ ٹوئٹر پر 16 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں کسی نے فون کرکے اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو سے جی-9 بلایا، جہاں ایک شخص انہیں جنگل میں لے گیا۔ ایس پی نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص نے بلال کو قتل کرنے کیلئے خنجر کا استعمال کیا، جبکہ پولیس نے فائرنگ کی آواز بھی سنی۔

دوسری جانب پولیس نے محمد بلال خان کے زیر استعمال موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیا، جس سے موبائل فون ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے۔ بلاگر محمد بلال خان اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ فکیلٹی کا طالبعلم تھا۔

تھانہ کراچی کمپنی اسلام آباد نے مقتول بلال کے والد عبداللہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ تھانے میں درج ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا کہ وہ بھارہ کہو میں اپنے کزن کے گھر پر تھے، جب انہیں احتشام الحق نے اطلاع دی کہ بلال اور ان پر نامعلوم ملزمان حملہ کردیا اور جب وہ پمز ہسپتال پہنچے تو بلال جاں بحق ہوچکا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق بلال کے جسم پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا اور بازو، سینے، کمر سمیت جسم پر آلے سے 17 زخم آئے تھے۔

والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ بلال کو قتل کرنے اور احتشام کو زخمی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ واقعے سے متعلق مقتول کے والد نے مختلف لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، ان کا بیٹا اپنی زندگی اسلام سے متعلق باتیں کرنے میں گزار رہا تھا۔

والد عبدللہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے بارے میں بات کرتا تھا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہ کہ انہیں اپنے بیٹے پر فخر ہے۔

علاوہ ازیں بلال خان کی نماز جنازہ دوپہر میں ہائی اسکول گراؤنڈ بڑی شیخ البانڈی ایبٹ آباد میں ادا کی جائے گی جبکہ قبل ازیں اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر ان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔