بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے،بلاول اور مریم میں اتفاق

82
لاہور: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جاتی امرا میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کررہے ہیں
لاہور: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جاتی امرا میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز سے ملاقات کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز بجٹ کی منظوری روکنے پر متفق ہوگئے۔ اتوار کو بلاول نے مریم نواز کی دعوت پر جاتی امرالاہور میں ان سے ملاقات کی جس میں حکومت مخالف مشترکہ جدوجہدکا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات کے حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ ملکی صورتحال پر غور کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کا ہر شعبہ ہائے زندگی زوال کا شکار ہے، پاکستان کو عالمی اداروں کے پاس گروی رکھ دینے اور قومی ادارے غیروں کے سپرد کرنے کے باوجود صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، حکومتی نااہلی نے پاکستان کو بحران میں مبتلا کردیا ہے اور بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی،حکومتی رویے نے پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، سلیکٹڈ وزیر اعظم اور نالائق حکومت کے طرز عمل سے سفارتی سطح پر ملک کی رسوائی ہو رہی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ 10 ماہ میں 2منی بجٹ دینے کے بعد حکومت کے پہلے قومی بجٹ نے نہ صرف معیشت کے سنبھلنے کے تمام امکانات ختم کردیے بلکہ عام آدمی پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ لاد دیا ہے.اعلامیے میں کہا گیا کہ نیب کے جعلی، بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کے طرز عمل پر بھی غور کیا گیا۔ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ملاقات میں بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے، صحافیوں پر حملوں، اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے سخت گیر ہتھکنڈوں اور سنسر شپ کی مذمت کی گئی۔اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ موجودہ نااہل اور غیر نمائندہ حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور ایسے المیے سے دو چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ بلاول اور مریم نواز نے اتفاق کیا کہ اس ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز کو دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور اْن جماعتوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا۔دونوں رہنماؤں کی جانب سے جج صاحبان کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت کی گئی اور یفرنس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ دونوں جماعتوں نے عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔مریم نواز اور بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور اسپیکر سے جانبدارانہ رویہ ترک کرنے کی درخواست کی گئی۔ملاقات کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ عوام اور جمہوریت کی خاطر آواز اٹھائیں گے، مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 21 جون کو نواب شاہ جلسے سے مہم شروع کروں گا۔انہوں نے بتایا کہ مولانافضل الرحمن سے اسلام آباد میں ملاقات طے ہے، جس میں بجٹ روکنے اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے سے متعلق گفتگو ہوگی۔بلاول نے مریم نواز سے ملاقات کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ ہمارے درمیان یہ طے پایا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے ، بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا، ملاقات میں مہنگائی اور عوام دشمن بجٹ پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو پنجاب کے عوام کے دکھوں کا احساس ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں گی۔